اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 363
تاب بدر جلد 4 363 تھیں جنہوں نے ایک لمحہ کے لیے بھی تردد نہیں کیا۔حضرت خدیجہ کے بعد مردوں میں سب سے ایمان لانے والے کے متعلق مؤرخین میں اختلاف ہے۔بعض حضرت ابو بکر عبد اللہ بن ابی قحافہ کا نام لیتے ہیں۔بعض حضرت علی کا جن کی عمر اس وقت صرف دس سال کی تھی اور بعض آنحضرت صلی الی ایم کے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہ کا۔مگر ہمارے نزدیک یہ جھگڑا فضول ہے۔حضرت علی اور زید بن حارثہ آنحضرت صلی نم کے گھر کے آدمی تھے اور آپ کے بچوں کی طرح آپ کے ساتھ رہتے تھے۔آنحضرت صلی علی کم کا فرمانا تھا اور ان کا ایمان لانا بلکہ ان کی طرف سے تو شاید کسی قولی اقرار کی بھی ضرورت نہ تھی۔پس ان کا نام بیچ میں لانے کی ضرورت نہیں اور جو باقی رہے ان سب میں سے حضرت ابو بکر مسلمہ طور پر مقدم اور سابق بالا یمان تھے۔"860 یعنی عمر کے لحاظ سے صاحب عقل لوگوں میں سے، باشعور لوگوں میں سے تھے۔صاحب عقل تو ماشاء اللہ بچے بھی اس زمانے میں ہوا کرتے تھے۔اس لحاظ سے دنیا جس کو باشعور اور تجربہ کار کہتی ہے حضرت ابو بکرؓ تھے جو مردوں میں سے ایمان لائے لیکن بہر حال یہ چار تھے، تین مرد اور ایک عورت جو آنحضرت صلی یہ تم پر ایمان لائے اور ان کا ایک بڑا مقام ہے جس طرح حضرت مصلح موعودؓ نے بیان فرمایا۔سفر طائف اور حضرت زید 861 سفر طائف میں بھی حضرت زید آنحضرت صلی اللہ علم کی معیت میں تھے۔طائف مکہ سے جنوب مشرق کی جانب تقریباً 36 میل کے فاصلہ پر واقع ایک جگہ ہے۔نہایت ہی سر سبز و شاداب علاقہ ہے جہاں بہت اعلیٰ قسم کے میوے پیدا ہوتے ہیں۔وہاں قبیلہ ثقیف کے لوگ آباد تھے۔حضرت ابوطالب کی وفات کے بعد قریش نے رسول اللہ صلی اللی کمر پر دوبارہ مظالم شروع کیسے تو آپ صلی الیکم حضرت زید بن حارثہؓ کے ہمراہ طائف کی طرف تشریف لے گئے۔یہ واقعہ 10 نبوی کا ہے اور ماہ شوال کے کچھ دن ابھی باقی تھے۔آپ دس دن تک طائف میں رہے۔اس دوران آپ طائف کے تمام رؤسا کے پاس گئے مگر کسی نے بھی آپ کی دعوت قبول نہیں کی۔جب ان کو اندیشہ ہوا کہ ان کے نوجوان آپ کی دعوت قبول کر لیں گے ، یہ فکر ضرور پیدا ہو گئی کہ کہیں نوجوان جو ہیں، جو عام لوگ ہیں وہ اسلام کی دعوت قبول نہ کر لیں تو انہوں نے کہا کہ اے محمد ! ( صلی ا کر ہمارے شہر سے نکل جاؤ اور وہاں جاکر رہو جہاں آپ کی دعوت قبول کی گئی ہے۔پھر انہوں نے آوارہ لوگوں کو آپ کے خلاف بھڑ کا یا تو وہ آپ کو پتھر مارنے لگے یہاں تک کہ آپ کے دونوں قدموں سے خون بہنے لگا۔حضرت زید بن حارثہ رسول اللہ صلی علیم پر پھینکے جانے والے پتھروں کو اپنے اوپر لینے کی کوشش کرتے تھے حتی کہ حضرت زید کے سر پر بھی متعد د زخم آئے۔الله 862