اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 364
اصحاب بدر جلد 4 364 طائف کے اس سفر کی کچھ مزید وضاحت جو سیرت خاتم النبیین میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھی ہے ، وہ بھی اس کے حوالے سے بیان کرتا ہوں۔الله سة شعب ابی طالب سے نکلنے کے بعد آنحضور صلی علیم نے طائف کا سفر کیا تھا۔جب یہ محاصرہ اٹھ گیا اور آنحضرت صلی اللہ ہم کو اپنی حرکات و سکنات یعنی موومنٹ (movement) میں کچھ حد تک آزادی نصیب ہوئی تو آپ نے ارادہ فرمایا کہ طائف میں جا کر وہاں کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں۔طائف ایک مشہور مقام ہے جو مکہ سے جنوب مشرق کی طرف چالیس میل کے فاصلے پر واقع ہے اور اس زمانہ میں قبیلہ بنو ثقیف سے آباد تھا۔کعبہ کی خصوصیت کو اگر الگ رکھ کر دیکھا جائے تو شہر کے لحاظ سے طائف گویا مکہ کا ہم پلہ تھا اور اس میں بڑے بڑے صاحب ثروت اور دولت مند لوگ آباد تھے اور طائف کی اس اہمیت کا خود مکہ والوں کو بھی اقرار تھا۔چنانچہ یہ مکہ والوں کا ہی قول ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بھی ذکر فرمایا ہے کہ کو لَا نُزِّلَ هَذَا الْقُرْآنُ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ (الزخرف:32) یعنی اگر یہ قرآن خدا کی طرف سے ہے تو مکہ یا طائف کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہ کیا گیا۔غرض شوال 10 نبوی میں آنحضرت صلی للی کم طائف تشریف لے گئے۔بعض روایتوں میں اکیلے تشریف لے گئے، بعض میں یہ ہے کہ زید بن حارثہؓ بھی ساتھ تھے۔وہاں پہنچ کر آپ نے دس دن قیام کیا اور شہر کے بہت سے رؤساء سے یکے بعد دیگرے ملاقات کی مگر اس شہر کی قسمت میں بھی مکہ کی طرح اس وقت اسلام لانا مقدر نہیں تھا۔چنانچہ سب نے انکار کیا بلکہ ہنسی اڑائی۔آخر آپ صلی اللہ ہم نے طائف کے رئیس اعظم عبدیالیل اور حدیث میں ابن عبدیالیل کا نام آتا ہے، اس کے پاس جا کر اسلام کی دعوت دی مگر اس نے بھی صاف انکار کیا بلکہ تمسخر کے رنگ میں کہا کہ اگر آپ سچے ہیں تو مجھے آپ کے ساتھ گفتگو کی مجال نہیں اور اگر جھوٹے ہیں تو پھر گفتگو لا حاصل ہے۔اس کا کوئی مقصد نہیں اور پھر اس خیال سے کہ کہیں آپ کی باتوں کا شہر کے نوجوانوں پر اثر نہ ہو جائے آپ سے کہنے لگا کہ بہتر ہو گا کہ آپ یہاں سے چلے جائیں کیونکہ یہاں کوئی شخص آپ کی بات سننے کے لیے تیار نہیں اور اس کے بعد اس بد بخت نے شہر کے آوارہ آدمی آپ کے پیچھے لگا دیے۔آنحضرت صلی علیہ کی شہر سے نکلے تو یہ لوگ شور کرتے ہوئے آپ کے پیچھے ہو لیے اور آپ پر پتھر برسانے شروع کیے جس سے آپ کا سارا بدن خون سے تر بتر ہو گیا اور جو پہلی روایت ہے اس میں یہ بھی تھا کہ حضرت زید بن حارثہ ساتھ تھے ، ان کے سر پر بھی پتھر لگے جب وہ پتھروں کو روکتے تھے۔بہر حال برابر تین میل تک یہ لوگ آپ کے ساتھ ساتھ گالیاں دیتے اور پتھر برساتے چلے آئے۔وہی نینوا جو یونس بن متی کا مسکن تھا؟ طائف سے تین میل کے فاصلے پر مکہ کے رئیس عتبہ بن ربیعہ کا ایک باغ تھا۔آنحضرت صلی علیکم نے اس میں آکر پناہ لی اور ظالم لوگ تھک کر واپس لوٹ گئے۔یہاں ایک سائے میں کھڑے ہو کر آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں دعا کی کہ اللّهُمَّ إِلَيكَ اَشْكُو ضُعْفَ قُوَّتِي وَ قِلَّةَ حِيلَتِي وَهَوَانِي عَلَى النَّاسِ اللَّهُمَّ يَا أَرْحَمَ الرّاحِمِينَ اَنْتَ رَبُّ الْمُسْتَضْعَفِينَ وَانْتَ رَتی۔اے میرے رب ! میں اپنے