اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 337
تاب بدر جلد 4 337 ان لاشوں کو مت دیکھیں۔یہ سنتے ہی وہ رُک گئیں۔جب آنحضرت صلی علیم کا حوالہ دیا گیا تو وہ رک گئیں اور اپنے پاس موجود دو کپڑے نکال کر فرمایا: یہ دو کپڑے ہیں جو میں اپنے بھائی حمزہ کے لیے لائی ہوں کیونکہ مجھے ان کی شہادت کی خبر مل چکی ہے۔تم انہیں ان کپڑوں میں کفن دے دینا۔ایک روایت میں ہے کہ حضرت صفیہ نے کہا مجھے یہ علم ہے کہ میرے بھائی کا مثلہ ہوا ہے اور یہ خدا کی راہ میں ہی ہو اہے اور خدا کی راہ میں جو بھی سلوک حضرت حمزہ کے ساتھ ہوا ہے اس پر ہم کیوں نہ راضی ہوں۔میں ان شاء اللہ صبر کروں گی اور اس کا اجر خدا سے چاہوں گی۔حضرت زبیر نے ماں کا یہ جواب سنا تو آنحضرت صلی علیکم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تمام ماجرا عرض کیا۔آنحضرت صلی علیم نے فرمایا صفیہ کو بھائی کی لاش پر جانے دو۔حضرت صفیہ آگے بڑھیں، بھائی کی لاش کو دیکھا انا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ پڑھا اور ان کے لیے دعائے مغفرت کی۔پھر حضور صلی ال کلیم نے ان کو دفن کرنے کا حکم دیا۔پھر آگے راوی کہتے ہیں کہ جب ہم حضرت حمزہ کو ان دو کپڑوں میں کفن دینے لگے تو دیکھا کہ ان کے پہلو میں ایک انصاری شہید ہوئے پڑے ہیں۔ان کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا گیا تھا جو حضرت حمزہ کے ساتھ کیا گیا تھا۔ہمیں اس بات پر شرم محسوس ہوئی کہ حضرت حمزہ کو دو کپڑوں میں کفن دے دیں اور اس انصاری کو ایک کپڑا بھی میسر نہ ہو۔اس لیے ہم نے یہ طے کیا کہ ایک کپڑے میں حضرت حمزہ کو اور دوسرے میں اس انصاری صحابی کو کفن دے دیں گے۔اندازہ کرنے پر ہمیں معلوم ہوا کہ ان دونوں حضرات میں سے ایک زیادہ لمبے قد کے تھے ہم نے قرعہ اندازی کی اور جن کے نام پر جو کپڑا نکل آیا اسے اسی کپڑے میں دفنا دیا۔تب بھی وہ پورا نہیں آیا تھا تو گھاس ڈالنی پڑی تھی۔802 ہر نبی کا حواری ہوتا ہے اور میرے حواری زبیر ہیں حضرت جابر بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ غزوہ خندق کے موقعے پر رسول اللہ صلی الم نے فرمایا کہ کوئی ہے جو میرے پاس بنو قریظہ کی خبر لائے تو حضرت زبیر نے عرض کی میں حاضر ہوں۔نبی صلی علیہ کم نے پھر فرمایا کوئی ہے جو میرے پاس بنو قریظہ کی خبر لائے۔حضرت زبیر نے پھر جواب دیا میں حاضر ہوں۔آنحضرت صلی الم نے تیسری بار فرمایا کہ کوئی ہے جو میرے پاس بنو قریظہ کی خبر لائے۔حضرت زبیر نے عرض کیا کہ میں حاضر ہوں۔نبی صلی اہل علم نے فرمایا کہ ہر نبی کا حواری ہوتا ہے اور میرے حواری زبیر ہیں۔حضرت عبد اللہ بن عمر نے ایک شخص کو کہتے سنا جو کہتا تھا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ نیلم کے حواری کا بیٹا ہوں۔حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے کہا کہ اگر تم حضرت زبیر کی اولاد میں سے ہو تو ٹھیک ہے ورنہ نہیں۔دریافت کیا گیا کہ حضرت زبیر کے علاوہ بھی اور کوئی تھا جسے رسول اللہ صلی الی نام کا حواری کہا جاتا تھا تو حضرت ابن عمرؓ نے کہا کہ میرے علم میں کوئی اور نہیں ہے۔3 803 بنو قریظہ کی طرف جانا حضرت عبد اللہ بن زبیر روایت کرتے ہیں کہ غزوہ احزاب کے دن مجھے اور عمر بن ابی سلمہ کو عورتوں میں مقرر کیا گیا۔میں نے جو نگاہ کی تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت زبیر اپنے گھوڑے پر سوار ہیں۔