اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 336
اصحاب بدر جلد 4 336 799 تھا اور آنحضرت صلی ا ہم نے دیکھ کر فرمایا کہ فرشتے زبیر کے مشابہ اترے ہیں۔ایک برچھی جو بڑی قیمتی اور متبرک ثابت ہوئی یعنی جو اللہ تعالیٰ نے مدد کے لیے بھیجے ہیں وہ بھی اسی عمامے میں جنگ لڑ رہے ہیں۔ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت زبیر کہتے تھے کہ غزوہ بدر کے دن محبیدہ بن سعید سے میری مڈھ بھیڑ ہوئی اور اس نے ہتھیاروں کو پوری طرح اوپر پہنا ہوا تھا۔اس کی صرف آنکھیں ہی نظر آتی تھیں اور اس کی کنیت ابو ذات الکرش تھی۔وہ کہنے لگا میں ابو ذات الگرِش ہوں۔یہ سنتے ہی میں نے اس پر برچھی سے حملہ کر دیا اور اس کی آنکھ میں زخم لگایا تو وہ وہیں مر گیا۔اس زور سے ماری تھی کہ ہشام کہتے تھے مجھے بتایا گیا کہ حضرت زبیر کہتے تھے کہ میں نے اپنا پاؤں اس پر رکھ کر پورا زور لگایا اور بڑی مشکل سے میں نے وہ برچھی کھینچ کر نکالی تو اس کے دونوں کنارے مڑ گئے تھے۔عروہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی علیم نے وہ بر چھی حضرت زبیر سے طلب فرمائی۔انہوں نے آپ کو پیش کر دی۔جب رسول اللہ صلی علی کے فوت ہوئے تو حضرت زبیر نے اسے واپس لے لیا۔پھر اس کے بعد حضرت ابو بکر نے وہ بر چھی طلب کی۔حضرت زبیر نے انہیں دے دی۔جب حضرت ابو بکر فوت ہوئے تو حضرت عمرؓ نے آپ سے وہ بر چھی طلب کی اور آپ نے انہیں دے دی۔جب حضرت عمر فوت ہوئے تو حضرت زبیر نے واپس لے لی۔پھر اس کے بعد حضرت عثمان نے ان سے وہ برچھی طلب کی اور حضرت زبیر نے انہیں دے دی۔جب حضرت عثمان شہید ہوئے تو وہ حضرت علی کی آل کو مل گئی۔آخر حضرت عبد اللہ بن زبیر نے ان سے لے لی اور وہ ان کے پاس رہی یہاں تک کہ حضرت عبد اللہ بن زبیر شہید کر دیے گئے۔800 نبی صل اللہ نام کا فرمانا میرے ماں باپ تم پر قربان حضرت زبیر بن عوام بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن نبی کریم صلی علی یکم نے میرے لیے اپنے والدین کو جمع فرمایا یعنی مجھ سے یوں فرمایا کہ میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔بہادر بہن کا بھائی کی لاش پر آنا اور قابل رشک صبر اور اطاعت کا مظاہرہ 801 حضرت زبیر سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن ایک عورت سامنے سے بڑی تیزی کے ساتھ آتی ہوئی دکھائی دی۔قریب تھا کہ وہ شہداء کی لاشیں دیکھ لیتی۔نبی کریم صلی علی ام نے اس چیز کو اچھا نہیں سمجھا کہ خاتون انہیں دیکھ سکے۔بہت بری حالت میں مثلہ کیا گیا تھا اس لیے فرمایا کہ اس عورت کو روکو، اس عورت کو روکو۔حضرت زبیر فرماتے ہیں کہ مجھے اندازہ ہو گیا کہ یہ میری والدہ حضرت صفیہ ہیں۔چنانچہ میں ان کی طرف دوڑتا ہوا گیا اور ان کے شہداء کی لاشوں تک پہنچنے سے قبل ہی میں ان تک پہنچ گیا۔انہوں نے مجھے دیکھ کر میرے سینے پر ہاتھ مار کر مجھے پیچھے دھکیل دیا۔وہ ایک مضبوط خاتون تھیں اور کہنے لگیں کہ پرے ہٹو میں تم سے نہیں بولتی۔یعنی کہ تم سے میں نے کوئی بات نہیں کرنی۔پس تم پرے ہٹ جاؤ اور نہ میں نے تمہاری بات سنی ہے۔میں نے عرض کیا کہ نبی کریم صلی ہی کم نے آپ کو قسم دلائی ہے کہ