اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 326
اصحاب بدر جلد 4 326 لوگوں نے میری بیعت کی اور طلحہ اور زبیر نے بھی میری بیعت کی اور اب وہ لشکر کے ہمراہ عراق کی طرف نکل پڑے ہیں۔اس پر حضرت رفائہ بن رافع نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی الی ان کا وصال ہوا تو ہمارا گمان تھا کہ ہم لوگ یعنی انصار اس خلافت کے زیادہ حقدار ہیں کیونکہ ہم نے رسول اللہ صلی للی کم کی مدد کی اور ہمارا مقام دین میں بڑا ہے مگر آپ لوگوں نے کہا کہ ہم مہاجرین اولین ہیں اور ہم رسول اللہ صلی علیکم کے دوست اور قریبی ہیں اور ہم تمہیں اللہ کی یاد دلاتے ہیں کہ تم رسول اللہ صلی علیم کی جانشینی میں ہم سے مزاحمت نہ کرو اور تم لوگ خوب جانتے ہو کہ ہم نے اس وقت تمہیں اور (خلافت کے) امر کو چھوڑ دیا تھا۔(ہم نے پھر بحث نہیں کی اور بالکل کامل اطاعت کے ساتھ خلافت کی بیعت کر لی۔اور اس کی وجہ یہ تھی کہ جب ہم نے دیکھا کہ حق پر عمل ہو رہا ہے اور کتاب اللہ کی پیروی کی جارہی ہے اور رسول اللہ صلی کی کمی کی سنت قائم ہے تو ہمارے پاس راضی ہونے کے علاوہ کوئی اور چارہ ہی نہ تھا اور اس کے سوا ہمیں کیا چاہئے تھا اور ہم نے آپ کی بیعت کی اور پھر اس سے رجوع نہیں کیا۔(پھر پیچھے ہٹے نہیں) اب آپ سے ان لوگوں نے مخالفت کی ہے جن سے آپ بہتر ہیں اور زیادہ پسندیدہ ہیں۔پس آپ ہمیں اپنے حکم سے مطلع فرمائیں۔اسی اثناء میں حجاج بن غزيه انصاری آئے اور انہوں نے کہا کہ اے امیر المومنین! اس معاملے کا تدارک اس سے پہلے کرنا چاہئے کہ وقت ہاتھ سے نکل جائے۔میری جان کو کبھی چین نصیب نہ ہو، اگر میں موت کا خوف کروں۔اے انصار کے گروہ ! امیر المومنین کی دوسری دفعہ مدد کرو جس طرح تم نے پہلے رسول اللہ صلی للی علم کی مدد کی تھی۔اللہ کی قسم ! یہ دوسری مدد پہلی مدد کی مانند ہو گی سوائے اس کے کہ ان دونوں میں سے پہلی مدد فضل ہے۔71 772 771 بہر حال ان کی وفات حضرت امیر معاویہ کی امارت کے ابتدائی ایام میں ہوئی۔2 حضرت رقائہ بن رافع کے قبولِ اسلام کا واقعہ اس طرح بیان ہوا ہے کہ مُعاذ بنِ رِ فائہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ حضرت رفاعہ بن رافع اور ان کے خالہ زاد بھائی حضرت معاذ بن عفرار نکلے اور مکہ مکرمہ پہنچے جب دونوں شنیہ پہاڑی سے نیچے اترے تو انہوں نے ایک شخص کو درخت کے نیچے بیٹھے دیکھا۔راوی کے مطابق یہ واقعہ چھ انصاریوں کے نکلنے سے پہلے کا ہے یعنی بیعت عقبہ اولیٰ سے پہلے کا واقعہ ہے۔کہتے ہیں کہ جب ہم نے، اس شخص کو دیکھاتو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔تو ہم نے کہا کہ اس شخص کے پاس چلتے ہیں اور اپنا سامان اس کے پاس رکھوا دیتے ہیں یہاں تک کہ بیت اللہ کا طواف کر آئیں۔کہتے ہیں کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جاہلیت کے رواج کے مطابق سلام کیا مگر آپ نے اسلامی طریق کے مطابق سلام کا جواب دیا اور ہم کہتے ہیں کہ ہم نبی کے بارے میں سن تو چکے تھے کہ مکہ میں کسی نے دعویٰ کیا ہے مگر ہم نے آپ کو نہ پہچانا۔ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ کون ہیں ؟ آپ نے کہا کہ نیچے اتر آؤ۔پس ہم نیچے اتر آئے اور آپ سے پوچھا کہ وہ شخص کہاں ہے جو