اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 317 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 317

317 102 محاب بدر جلد 4 نام و نسب و کنیت حضرت ذكوان بن عَبْد قَيس مدینہ سے مکہ ہجرت کرنے والے منفر د صحابی ย حضرت ذکوان بن عبد قیس۔ان کی کنیت ابو الشبع تھی۔حضرت ذکوان کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو زُریق سے تھا۔آپ کی کنیت ابوالشبع ہے۔آپ بیعت عقبہ اولیٰ اور ثانیہ میں بھی شریک رہے۔مدینہ سے مکہ ہجرت کرنے والے صحابی آپ کی ایک نمایاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ آپ مدینہ سے ہجرت کر کے آنحضور صلی ا ظلم کے پاس مکہ گئے۔اس وقت تک آنحضور صلی علی کم مکہ میں ہی تھے۔آپ کو انصاری مہاجر کہا جاتا تھا۔آپ وہاں مکہ جا کے کچھ عرصہ رہے۔یا سمجھنا چاہیے کہ ہجرت کر کے آنحضرت صلی علیہم کے پاس آگئے۔آپ غزوہ بدر اور احد میں شریک تھے اور غزوہ احد میں شہادت کا رتبہ پایا۔آپ کو ابو حکم بن آنخلس نے شہید کیا تھا۔حضرت ذکوان بن عَبْد قَیس کو انصاری مہاجر کہا جاتا ہے۔3 753 علامہ ابن سعد طبقات کبریٰ میں لکھتے ہیں کہ ہجرت مدینہ کے وقت جب مسلمان مدینہ روانہ ہوئے تو قریش سخت ناراض تھے اور جو نوجوان ہجرت کر کے جاچکے تھے ان پر انہیں بہت غصہ آیا۔انصار کے ایک گروہ نے عقبہ ثانیہ میں رسول اللہ صلی للی یکم کی بیعت کی تھی اور اس کے بعد واپس مدینہ چلے گئے تھے۔جب ابتدائی مہاجرین قبا پہنچ گئے تو یہ انصار رسول کریم صلی لمینیم کے پاس مکہ گئے اور آپ کے اصحاب کے ساتھ ہجرت کر کے مدینہ آئے۔اسی مناسبت سے انہیں انصار مہاجرین کہا جاتا ہے۔ان اصحاب میں حضرت ذکوان بن عبد قَيْس ، حضرت عُقْبَه بن وهب ، حضرت عباس بن عبادہ ، اور حضرت زیاد بن لبيد شامل تھے۔اس کے بعد تمام مسلمان مدینہ چلے گئے تھے سوائے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابو بکر حضرت علی کے یا وہ جو فتنہ میں تھے ، قید تھے ، مریض تھے یا وہ ضعیف اور کمزور تھے۔754 جو ایسے شخص کو دیکھنا چاہتا ہے جو کل جنت کے سبزے پر چل رہا ہو گا تو اس کو دیکھ لے سهيل بن ابی صالح سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ لی لی نام احمد کے لیے نکلے۔آپ نے ایک مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صحابہ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ اس طرف کون جائے گا اپنی زُریق میں سے ایک صحابی حضرت ذکوان بن عبد قیس ابو السبع کھڑے ہوئے۔کہنے لگے یارسول اللہ ! میں جاؤں گا۔آنحضور صلی ایم نے دریافت فرمایا کہ تم کون ہو ؟ حضرت ذکوان نے کہا میں ذکوان بن عَبْدِ قَيْسِ