اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 274 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 274

274 88 صحاب بدر جلد 4 حضرت خباب بن الارث نام و نسب حضرت خباب کا تعلق قبیلہ بنو سعد بن زید سے تھا۔ان کے والد کا نام آرٹ بن جندلہ تھا۔ان کی کنیت ابو عبد اللہ اور بعض کے نزدیک ابو محمد اور ابو یحی بھی تھی۔زمانہ جاہلیت میں غلام بنا کر مکہ میں یہ بیچ دیے گئے۔یہ عُتْبَة بن غزوان کے غلام تھے۔بعض کے نزدیک ایر انمار خُزاعیہ کے غلام تھے۔بنو زہرہ کے حلیف ہوئے۔اول اسلام لانے والے اصحاب میں یہ چھٹے نمبر پر تھے اور ان اولین میں سے ہیں جنہوں نے اپنا اسلام ظاہر کر کے اس کی پاداش میں سخت مصائب برداشت کیے۔حضرت خباب رسول الله صلى اللیل کے دارارقم میں تشریف لانے اور اس میں دعوت دینے سے پہلے اسلام رض لائے تھے۔652 خدا کی راہ میں تکالیف اور مصائب برداشت کرنے والے مجاہد کہتے ہیں کہ سب سے پہلے جن لوگوں نے رسول اللہ صلی علیم کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اسلام ظاہر کیا وہ یہ ہیں: حضرت ابو بکر، حضرت خباب ، حضرت صہیب، حضرت بلال، حضرت عمار “ اور حضرت سمیہ “ والدہ حضرت عمار۔پس رسول اللہ صلی علی کرم کو تو اللہ تعالیٰ نے ان کے چچا ابوطالب کے ذریعہ سے محفوظ رکھا اور حضرت ابو بکر سکو خود ان کی قوم نے محفوظ رکھا۔بہر حال یہ جو لکھنے والا ہے یہ ایک خاص تناظر میں یہ لکھ رہا ہے لیکن یہ بات بہر حال لازمی ہے اور اس لکھنے والے کے ذہن میں بھی شاید یہ نہیں رہا کہ باوجود اس کے جو اس نے لکھا ہے کہ ان کے چا ابو طالب نے ان کو محفوظ رکھا یا ان کی وجہ سے حفاظت کی۔آنحضرت صلی می کنم خود بھی مشرکین مکہ کے ہاتھوں مظالم سے محفوظ نہ رہے اور نہ ہی حضرت ابو بکر محفوظ رہے۔تاریخ اس پر شاہد ہے۔انہیں بھی طرح طرح کے ظلم وستم کا نشانہ بنایا گیا بلکہ حضرت ابو طالب سمیت ظلموں کا نشانہ بنایا گیا۔لکھنے والا تو یہ کہتا ہے کہ پھر یہ لوگ تو محفوظ رہے لیکن جیسا کہ میں نے کہا یہ بھی اس کی ایک سوچ ہے کیونکہ تاریخ تو یہ کہتی ہے کہ نہ آنحضرت صلی اللہ محفوظ رہے، نہ حضرت ابو بکر محفوظ رہے لیکن بہر حال وہ پھر اپنے اس خیال کا اظہار کرتے ہوئے آگے لکھتا ہے کہ یہ تو دونوں محفوظ ہوئے لیکن باقی سب لوگوں کو لوہے کی زرہیں پہنائی گئیں اور انہیں سورج کی شدید دھوپ میں جھلسایا گیا اور جس قدر اللہ نے چاہا انہوں نے لوہے اور سورج کی حرارت کو برداشت کیا۔شعبی کہتے ہیں کہ حضرت خباب نے بہت صبر کیا اور کفار کے مطالبے یعنی اسلام سے انکار کو منظور نہیں کیا تو ان لوگوں نے ان کی پیٹھ پر گرم گرم پتھر رکھے یہاں تک کہ ان کی