اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 275
ناب بدر جلد 4 275 پیٹھ سے گوشت جاتا رہا۔اسد الغابہ کی یہ ساری روایت ہے۔حضرت عمر کا قبول اسلام اور حضرت خباب 653 ا تفصیلی حضرت خباب کا ایک واقعہ جو حضرت عمرؓ کے اسلام قبول کرنے کے وقت پیش آیا اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرت خاتم النبیین میں یوں بیان فرمایا ہے کہ ابھی حضرت حمزہ کو اسلام لائے صرف چند دن ہی گزرے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایک اور خوشی کا موقع دکھایا یعنی حضرت عمرؓ جو ابھی تک اشد مخالفین میں سے تھے مسلمان ہو گئے۔ان کے اسلام لانے کا قصہ بھی نہایت دلچسپ ہے۔بہت سارے لوگوں نے سنا بھی ہوا ہے، پڑھا بھی ہوا ہے لیکن یہ تفصیل جو آپ نے بیان کی ہے یہ بھی میں بیان کر دیتا ہوں اور یہ بیان کرنا ان کی تاریخ کے لیے ضروری ہے۔حضرت عمر کی طبیعت میں سختی کا مادہ تو زیادہ تھا ہی مگر اسلام کی عداوت نے اسے اور بھی زیادہ کر دیا تھا۔چنانچہ اسلام سے قبل عمر غریب اور کمزور مسلمانوں کو ان کے اسلام کی وجہ سے بہت سخت تکلیف دیا کرتے تھے لیکن جب وہ انہیں تکلیف دیتے دیتے تھک گئے اور ان کے واپس آنے کی کوئی صورت نہ دیکھی تو خیال آیا کیوں نہ اس فتنے کے بانی کا یعنی آنحضرت صلی للی کم کا ہی خاتمہ کر دیا جاوے۔یہ خیال آنا تھا کہ تلوار لے کر گھر سے نکلے اور آنحضرت صلی علیم کی تلاش شروع کی۔راستے میں ایک شخص نے انہیں سنگی تلوار ہاتھ میں لیے جاتے دیکھا تو پوچھا۔عمر کہاں جاتے ہو ؟ عمر نے جواب دیا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا کام تمام کرنے جاتا ہوں۔اس نے کہا کیا تم محمد کو قتل کر کے بنو عبد مناف سے محفوظ رہ سکو گے ؟ ذرا پہلے اپنے گھر کی تو خبر لو۔تمہاری بہن اور بہنوئی مسلمان ہو چکے ہیں۔حضرت عمرؓ جھٹ پلٹے ، واپس ہوئے اور اپنی بہن فاطمہ کے گھر کا راستہ لیا۔جب گھر کے قریب پہنچے تو اندر سے قرآن شریف کی تلاوت کی آواز آئی۔جو خباب بن الارت خوش الحانی کے ساتھ پڑھ کر سنا رہے تھے۔عمرؓ نے یہ آواز سنی تو غصہ اور بھی بڑھ گیا۔جلدی سے گھر میں داخل ہوئے لیکن ان کی آہٹ سنتے ہی حباب تو فوراً کہیں چھپ گئے اور فاطمہ نے قرآن شریف کے اوراق بھی اِدھر ادھر چھپا دیے۔حضرت عمرؓ کی بہن کا نام فاطمہ تھا۔حضرت عمرؓ اندر آئے تو للکار کر کہا میں نے سنا ہے تم اپنے دین سے پھر گئے ہو۔یہ کہہ کر اپنے بہنوئی سعید بن زید سے لپٹ گئے۔فاطمہ اپنے خاوند کو بچانے کے لیے آگے بڑھیں تو وہ بھی زخمی ہوئیں مگر فاطمہ نے دلیری کے ساتھ کہا۔ہاں عمر ! ہم مسلمان ہو چکے ہیں اور تم سے جو ہو سکتا ہے کر لو۔اب ہم اسلام کو نہیں چھوڑ سکتے۔حضرت عمر نہایت سخت آدمی تھے لیکن اس سختی کے پردہ کے نیچے محبت اور نرمی کی بھی ایک جھلک تھی جو بعض اوقات اپنا رنگ دکھاتی تھی۔بہن کا یہ دلیرانہ کلام سنا، یہ بات سنی تو آنکھ اوپر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا تو وہ خون میں تربہ تر تھی۔اس نظارہ کا عمر کے قلب پر ایک خاص اثر ہوا۔کچھ دیر خاموش رہ کر بہن سے کہنے لگے کہ مجھے وہ کلام تو دکھاؤ جو تم پڑھ رہے تھے ؟ فاطمہ نے کہا کہ میں نہیں دکھاؤں گی کیونکہ تم ان اوراق کو ضائع کر دو گے، ان صفحوں کو ضائع کر دو گے۔عمر نے جواب دیا۔نہیں نہیں تم مجھے دکھاؤ۔میں ضرور واپس کر دوں