اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 270 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 270

270 85 صحاب بدر جلد 4 نام و نسب مواخات حضرت خارجہ بن زید حضرت خارجہ بن زید۔حضرت خارجہ بن زید کا تعلق خزرج کے خاند ان آغر سے تھا۔حضرت خارجہ کی بیٹی حضرت حبیبہ بنت خارجہ حضرت ابو بکر صدیق کی اہلیہ تھیں جن کے بطن سے حضرت ابو بکر صدیق کی صاحبزادی حضرت اقد حلقوم پیدا ہوئیں۔رسول اللہ صلی علیم نے حضرت خارجہ بن زید اور حضرت ابو بکر صدیق کے در میان مواخات قائم فرمائی۔رئیس قبیلہ تھے اور ان کو کبار صحابہ میں شامل کیا جا تا تھا۔انہوں نے عقبہ میں بیعت کی تھی۔ہجرت مدینہ کے بعد حضرت ابو بکر صدیق نے حضرت خارجہ بن زید کے گھر قیام کیا تھا۔636 635 جنگ احد میں جاں نثارانہ انداز میں شہادت یہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے۔حضرت خارجہ نے غزوہ اُحد میں بڑی بہادری اور جوانمردی سے لڑتے ہوئے شہادت کار تبہ پایا۔نیزوں کی زد میں آگئے اور آپ کو تیرہ سے زائد زخم لگے۔آپ زخموں سے نڈھال پڑے تھے کہ پاس سے صفوان بن امیہ گزرا۔اس نے انہیں پہچان کر حملہ کر کے شہید کر دیا۔پھر ان کا مثلہ بھی کیا اور کہا کہ یہ ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے بدر میں ابو علی کو قتل کیا تھا یعنی میرے باپ اُمیہ بن خلف کو۔اب مجھے موقع ملا ہے کہ ان اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) میں سے بہترین لوگوں کو قتل کروں اور اپنا دل ٹھنڈا کروں۔اس نے حضرت ابن قوقل، حضرت خارجہ بن زید اور حضرت اوس بن ارقم کو شہید کیا۔حضرت خارجہ اور حضرت سعد بن ربیع جو کہ آپ کے چچازاد بھائی تھے ان دونوں کو ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا۔637 روایت ہے کہ اُحد کے دن حضرت عباس بن عُبادة اونچی آواز سے کہہ رہے تھے کہ اے مسلمانوں کے گروہ ! اللہ اور اپنے نبی سے جڑے رہو۔جو مصیبت تمہیں پہنچی ہے یہ اپنے نبی کی نافرمانی سے پہنچی ہے۔وہ تمہیں مدد کا وعدہ دیتا تھا لیکن تم نے صبر نہیں کیا۔پھر حضرت عباس بن عبادۃ نے اپنا خود اور اپنی زرہ اتاری اور حضرت خارجہ بن زید سے پوچھا کہ کیا آپ کو اس کی ضرورت ہے ؟ خارجہ نے کہا نہیں جس چیز کی تمہیں آرزو ہے وہی میں بھی چاہتا ہوں۔پھر وہ سب دشمن سے بھڑ گئے۔عباس بن عُبادۃ کہتے تھے کہ ہمارے دیکھتے ہوئے اگر رسول اللہ صلی علی یم کو گزند پہنچا، کوئی تکلیف پہنچی تو ہمارا اپنے رب کے حضور کیا عذر ہو گا ؟ اور حضرت خارجہ یہ کہتے تھے کہ اپنے رب کے حضور ہمارے پاس نہ تو کوئی