اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 264 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 264

تاب بدر جلد 4 264 اس زمانہ کے دستور کے مطابق جنگ کا ایک طریق یہ بھی ہوتا تھا کہ اپنے قلعوں میں محفوظ ہو کر بیٹھ جاتے تھے محاصرہ ہو جاتا تھا اور فریق مخالف قلعوں کا محاصرہ کر لیتا تھا اور موقع موقع پر گاہے گاہے ایک دوسرے کے خلاف حملے ہوتے رہتے تھے۔حتی کہ یا تو محاصرہ کرنے والی فوج قلعہ پر قبضہ کرنے سے مایوس ہو کر محاصرہ اٹھا لیتی تھی اور یہ محصورین کی فتح سمجھی جاتی تھی اور یا محصورین مقابلہ کی تاب نہ لا کر قلعہ کا دروازہ کھول کر اپنے آپ کو فاتحین کے سپر د کر دیتے تھے۔اس موقعہ پر بھی بنو قینقاع نے یہی طریق اختیار کیا اور اپنے قلعوں میں بند ہو کر بیٹھ گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کا محاصرہ کیا اور پندرہ دن تک برابر محاصرہ جاری رہا۔بالآخر جب بنو قینقاع کا سارا زور اور غرور ٹوٹ گیا تو انہوں نے اس شرط پر اپنے قلعوں کے دروازے کھول دیے کہ ان کے اموال مسلمانوں کے ہو جائیں گے۔مگر اُن کی جانوں اور ان کے اہل و عیال پر مسلمانوں کا کوئی حق نہیں ہو گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شرط کو منظور فرمالیا کیونکہ گوموسوی شریعت کی رُو سے یہ سب لوگ واجب القتل تھے۔اور معاہدہ کی رو سے ان لوگوں پر موسوی شریعت کا فیصلہ ہی جاری ہونا چاہیے تھا مگر اس قوم کا یہ پہلا جرم تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رحیم و کریم طبیعت انتہائی سزا کی طرف جو ایک آخری علاج ہوتا ہے ابتدائی قدم پر مائل نہیں ہو سکتی تھی، لیکن دوسری طرف ایسے بد عہد اور معاند قبیلہ کا مدینہ میں رہنا بھی ایک مارِ آستین کے پالنے سے کم نہ تھا۔خصوصاً جب کہ اوس اور خزرج کا ایک منافق گروہ پہلے سے مدینہ میں موجود تھا اور بیرونی جانب سے بھی تمام عرب کی مخالفت نے مسلمانوں کا ناک میں دم کر رکھا تھا۔ایسے حالات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی فیصلہ ہو سکتا تھا کہ بنو قینقاع مدینہ سے چلے جائیں۔یہ سزا اُن کے جرم کے مقابل میں اور نیز اس زمانہ کے حالات کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایک بہت نرم سزا تھی اور دراصل اس میں صرف خود حفاظتی کا پہلو ہی مد نظر تھا۔ورنہ عرب کی خانہ بدوش اقوام کے نزدیک نقل مکان کوئی بڑی بات نہ تھی۔خصوصاً جب کہ کسی قبیلہ کی جائیدادیں، زمینوں اور باغات کی صورت میں نہ ہوں جیسا کہ بنو قینقاع کی نہیں تھیں۔اور پھر سارے کے سارے قبیلہ کو بڑے امن وامان کے ساتھ ایک جگہ چھوڑ کر کسی دوسری جگہ جاکر آباد ہونے کا موقعہ مل جاوے۔چنانچہ بنو قینقاع بڑے اطمینان کے ساتھ مدینہ چھوڑ کر شام کی طرف چلے گئے۔ان کی روانگی کے متعلق ضروری اہتمام اور نگرانی وغیرہ کا کام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابی عبادہ بن صامت کے سپر د فرمایا تھا جو اُن کے حلفاء میں سے تھے۔چنانچہ عبادہ بن صامت چند منزل تک بنو قینقاع کے ساتھ گئے اور پھر انہیں حفاظت کے ساتھ آگے روانہ کر کے واپس لوٹ آئے۔مالِ غنیمت جو مسلمانوں کے ہاتھ آیا وہ صرف