اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 265
تاب بدر جلد 4 265 مشتمل تھا۔آلات حرب“ جنگ کے آلات، جنگ کا سامان اور آلات پیشہ زرگری پر بنو قینقاع کے متعلق بعض روایتوں میں ذکر آتا ہے کہ جب ان لوگوں نے اپنے قلعوں کے دروازے کھول کر اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سپر د کر دیا تو اُن کی بد عہدی اور بغاوت اور شرارتوں کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ اُن کے جنگجو مردوں کو قتل کروا دینے کا تھا، مگر عبد اللہ بن ابی بن سلول رئیس منافقین کی سفارش پر آپ نے یہ ارادہ ترک کر دیا، لیکن اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے) محققین ان روایات کو صحیح نہیں سمجھتے " کیونکہ جب دوسری روایت میں یہ صریحاً مذکور ہے کہ بنو قینقاع نے اس شرط پر دروازے کھولے تھے کہ ان کی اور ان کے اہل وعیال کی جان بخشی کی جائے گی تو یہ ہر گز نہیں ہو سکتا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس شرط کو قبول کر لینے کے بعد دوسرا طریق اختیار فرماتے اور پھر بھی قتل کرنے کی کوشش فرماتے۔اس لیے یہ تو بالکل غلط بات ہے۔البتہ بنو قینقاع کی طرف سے جان بخشی کی شرط کا پیش ہونا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ خود ہی سمجھتے تھے کہ اُن کی اصل سزا قتل ہی ہے مگر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے رحم کے طالب تھے اور یہ وعدہ لینے کے بعد اپنے قلع کا دروزاہ کھولنا چاہتے تھے کہ ان کو قتل کی سزا نہیں دی جاوے گی لیکن گو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی رحیم النفسی سے انہیں معاف کر دیا تھا مگر معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی نظر میں یہ لوگ اپنی بداعمالی اور جرائم کی وجہ سے آب دنیا کے پردے پر زندہ چھوڑے جانے کے قابل نہیں تھے۔چنانچہ روایت میں آتا ہے کہ جس جگہ یہ لوگ جلاوطن ہو کر گئے تھے وہاں انہیں ابھی ایک سال کا عرصہ بھی نہ گذرا تھا کہ اُن میں کوئی ایسی بیماری وغیرہ پڑی کہ سارے کا سارا قبیلہ اس کا شکار ہو کر پیوند خاک ہو گیا ختم ہو گیا۔624 غزوہ بنو قینقاع ذوالحجہ 2 ہجری میں ہو ا تھا۔625 بہر حال حضرت حمزہ اس میں علم بردار تھے۔حضرت حمزہ کی شہادت کے بارے میں پہلے بیان ہو چکا ہے کہ یہ احد میں شہید ہوئے تھے۔اس کی خبر اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ رؤیا دے دی تھی۔چنانچہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رویا میں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے رویا میں دیکھا کہ ایک مینڈھے کا پیچھا کر رہا ہوں اور یہ کہ میری تلوار کا کنارہ ٹوٹ گیا ہے تو میں نے یہ تعبیر کی کہ قوم کے مینڈھے کو قتل کروں گا یعنی ان کے سپہ سالار کو اور تلوار کے کنارے کی تعبیر میں نے یہ کی کہ میرے خاندان کا کوئی آدمی ہے۔پھر حضرت حمزہ کو شہید کر دیا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلحہ کو قتل کیا جو کہ مشرکین کا علمبر دار تھا۔626 حضرت حمزہ کا مثلہ کیا گیا تھا، شکل بگاڑی گئی تھی۔ناک کان کاٹے گئے تھے۔ان کا پیٹ چاک کیا گیا تھا۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ حالت دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شدید رنج ہوا اور فرمایا اگر اللہ نے مجھے قریش پر کامیابی دی تو میں اُن کے تیس آدمیوں کا مثلہ کروں گا۔جبکہ ایک روایت