اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 255 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 255

تاب بدر جلد 4 255 حضرت حمزہ کی ایک کنیت ابو یعلی تھی۔حضرت حمزہ کی دوسری زوجہ حضرت خولہ بنت قیس انصاریہ سے حضرت عمارہ کی ولادت ہوئی جن کے نام پر حضرت حمزہ نے اپنی کنیت ابو عمارہ رکھی تھی۔حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی ایک شادی حضرت اسماء بنت عمیس کی بہن حضرت سلمیٰ بنت عمیس سے ہوئی جن کے بطن سے ایک بیٹی حضرت اُمامہ کی پیدائش ہوئی۔یہ وہی انامہ ہیں جن کے بارے میں حضرت علی، حضرت جعفر اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہم میں نزاع ہوا تھا۔ان میں سے ہر ایک یہی چاہتا تھا کہ حضرت امامہ اس کے پاس رہیں مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق میں فیصلہ فرمایا تھا کیونکہ حضرت امامہ کی خالہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھیں۔حضرت حمزہ کے بیٹے یعلی کی اولاد میں عمارہ، فضل، زبیر ، عقیل اور محمد تھے مگر سب فوت ہو گئے اور حضرت حمزہ کی نہ ہی اولاد زندہ رہی اور نہ ہی نسل چل سکی۔612 حضرت حمزہ کی بیٹی امامہ کے متعلق حضرت علی، حضرت جعفر اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جس نزاع کا ابھی ذکر آیا ہے اس کی تفصیل بخاری میں اس طرح آئی ہے: حضرت براء بن عازب سے روایت ہے۔انہوں نے کہا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی القعدہ میں عمرہ کرنے کا ارادہ کیا تو اہل مکہ نے اس بات سے انکار کیا کہ آپ کو مکہ میں داخل ہونے دیں۔آخر آپ نے ان سے اس شرط پر صلح کی کہ وہ مکہ میں آئندہ سال عمرنے کو آئیں گے اور تین دن تک ٹھہریں گے۔جب صلح نامہ لکھنے لگے تو ، جس طرح کہ لکھا ہے کہ یہ وہ شرطیں ہیں جن پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کی ، مکہ والے کہنے لگے کہ ہم اس کو نہیں مانتے۔اگر ہم جانتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو آپ کو کبھی نہ روکتے بلکہ یہاں تم محمد بن عبد اللہ ہو۔آپ نے فرمایا: میں اللہ کا رسول بھی ہوں اور محمد بن عبد اللہ بھی ہوں۔آپ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ رسول اللہ کا لفظ مٹادو۔علی نے کہا ہر گز نہیں مٹانا۔اللہ کی قسم ! میں آپ کے خطاب کو کبھی نہیں مٹاؤں گا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھا ہوا کا غذ لے لیا اور آپ اچھی طرح لکھنا نہیں جانتے تھے۔آپ نے یوں لکھا: یہ وہ شرطیں ہیں جو محمد بن عبد اللہ نے ٹھہرائیں۔مکہ میں کوئی ہتھیار نہیں لائیں گے سوائے تلواروں کے جو نیاموں میں ہوں گی اور مکہ والوں میں سے کسی کو بھی ساتھ نہیں لے جائیں گے اگر چہ وہ ان کے ساتھ جانا چاہے اور اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو بھی نہیں روکیں گے اگر وہ مکہ میں ٹھہر نا چا ہے۔خیر جب معاہدے کے مطابق آپ آئندہ سیال مکہ میں داخل ہوئے اور مدت ختم ہو گئی تو قریش حضرت علی کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اپنے ساتھی یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کہو کہ اب یہاں سے چلے جائیں کیونکہ مقررہ مدت گزر چکی ہے۔چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہو گئے۔حضرت حمزہ کی بیٹی آپ کے پیچھے آئی جو پکار رہی تھی کہ اے چچا ! اے چچا ! حضرت علی نے جا کر اسے لے لیا، اس کا ہاتھ پکڑا اور فاطمہ علیہا السلام سے کہا اپنے چا کی بیٹی