اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 254 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 254

تاب بدر جلد 4 254 سے واپس لوٹے تو آپ صلی للی یکم نے سنا کہ انصار کی عور تیں اپنے خاوندوں پر رو تیں اور بین کرتی ہیں۔آپ صلی الم نے فرمایا کہ کیا بات ہے حمزہ کو کوئی رونے والا نہیں ؟ انصار کی عورتوں کو پتہ چلا تو پھر وہ حضرت حمزہ کی شہادت پر بین کرنے کے لئے اکٹھی ہو گئیں۔پھر نبی کریم صلی علیم کی آنکھ لگ گئی اور جب بیدار ہوئے تو وہ خواتین اسی طرح رو رہی تھیں۔نبی کریم صلی الم نے فرمایا کہ آج حمزہ کا نام لے کر روتی ہی رہیں گی۔انہیں کہہ دو کہ واپس چلی جائیں۔تب نبی کریم صلی الم نے انہیں ہدایت فرمائی کہ وہ اپنے گھروں کو واپس لوٹ جائیں اور آج کے بعد کسی مرنے 609 والے کا ماتم اور بین نہ کریں۔تو اس طرح آنحضرت صلی اللہ ہم نے مردوں پر نوحہ کرنا نا جائز قرار دے دیا اور کسی بھی قسم کا جو نوحہ ہے اور بین ہے وہ ختم کر دیا۔بڑی حکمت سے آنحضرت علی ایم نے انصار کی عورتوں کے جذبات کا خیال رکھا۔انہیں اپنے خاوندوں اور بھائیوں کی جدائی پر ماتم سے روکنے کی بجائے پہلے ان کی توجہ حضرت حمزہ کی طرف پھیری، عظیم قومی صدمہ کی طرف توجہ دلائی جو سب سے بڑھ کر آپ صلی یہ تم کو غم تھا اور پھر حمزہ پر ماتم اور ئین نہ کرنے کی تلقین فرما کر اپنا نمونہ پیش کر دیا اور انہیں صبر کی تلقین کی، ایسی تلقین جو پر اثر تھی۔جہاں تک آنحضرت صلی یکم کو حضرت حمزہ کی جدائی کے غم کا تعلق ہے وہ آخر تک آپ کو رہا۔کعب بن مالک نے حضرت حمزہ کی شہادت پر اپنے مرثیہ میں کہا تھا کہ میری آنکھیں آنسو بہاتی ہیں اور حمزہ کی موت پر انہیں رونے کا بجاطور پر حق بھی ہے مگر خدا کے شیر کی موت پر رونے دھونے اور چیخ و پکار سے کیا حاصل ہو سکتا ہے۔وہ خدا کا شیر حمزہ کہ جس صبح وہ شہید ہوا د نیا کہہ اٹھی کہ شہید تو یہ جوانمرد ہوا ہے۔610 آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے اور آپ کے بہت پیارے تھے جس کا اظہار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مختلف باتوں اور حضرت حمزہ کی شہادت سے ہوتا ہے کہ اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا رد عمل تھا۔ہو سکتا ہے بعض باتیں اجمالاً دوبارہ بھی دہرائی جائیں۔روایت میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حمزہ نام بہت پسند تھا۔حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم میں سے ایک آدمی کے گھر لڑکا پیدا ہوا تو انہوں نے پوچھا ہم اس کا نام کیا رکھیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا نام حمزہ بن عبد المطلب کے نام پر رکھو جو کہ مجھے سب ناموں سے زیادہ پسندیدہ ہے۔حضرت حمزہ کی ازواج اور اولاد 611 کے متعلق طبقات الکبریٰ میں لکھا ہے کہ حضرت حمزہ کی ایک شادی مِلہ بن مالک جو کہ قبیلہ اوس سے تعلق رکھتے تھے ان کی بیٹی سے ہوئی جن سے یعلی اور عامر پیدا ہوئے۔اپنے بیٹے یعلیٰ کے نام پر ہی