اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 253
تاب بدر جلد 4 253 نے سب سے پہلے حضرت حمزہ کی نماز جنازہ پڑھائی۔14 نماز جنازه 604 حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علی ایم نے حضرت حمزہ کی نعش کو سامنے رکھ کر ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ایک انصاری صحابی کی نعش کو ان کے پہلو میں رکھا گیا اور آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔پھر اس انصاری کی میت اٹھادی گئی تاہم حضرت حمزہ کی میت وہیں رہنے دی گئی۔یہاں تک کہ اس طرح آنحضرت صلی این وکیل نے اس روز حضرت حمزہ کی نماز جنازہ دوسرے باقی شہداء کے ساتھ ستر دفعہ پڑھائی کیونکہ ہر دفعہ حضرت حمزہ کی نعش وہیں پڑی رہتی تھی۔15 الله سة 605 حضرت ابو ہریرۃ سے روایت ہے کہ حضرت حمزہ رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک اور تمام نیک کاموں میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔چنانچہ شہادت کے بعد آنحضرت علی ایم نے حضرت حمزہ کی لاش کو مخاطب ہو کر فرمایا اللہ کی رحمتیں تجھ پر ہوں۔آپ ایسے تھے کہ معلوم نہیں کہ ایساصلہ رحمی کرنے والا اور نیکیاں بجالانے والا کوئی اور ہو۔اور آج کے بعد آپ پر کوئی غم نہیں۔607 606 ماضی کی کسمپرسی اور حضرت حمزہ کی یاد رسول اللہ صلی اللی کم کے چا اور مسلمانوں کے اس بہادر سردار حضرت حمزہ کی تدفین جس بے کسی اور کسمپرسی کے عالم میں ہوئی صحابہ بڑے دکھ کے ساتھ اس کا تذکرہ کیا کرتے تھے۔بعد میں فراخی کے دور میں حضرت خباب وہ تنگی کا زمانہ یاد کر کے کہا کرتے تھے کہ حضرت حمزہ کا کفن ایک چادر تھی وہ بھی پوری نہ ہوتی تھی۔چنانچہ سر کو ڈھانک کر پاؤں پر گھاس ڈال دی گئی تھی۔7 اسی طرح حضرت عبد الرحمن بن عوف کا بھی اسی قسم کا واقعہ ہے کہ ایک دفعہ روزے سے تھے تو افطاری کے وقت پر تکلف کھانا پیش کیا گیا جسے دیکھ کر انہیں عسرت کا زمانہ یاد آگیا۔تنگی کا زمانہ یاد آگیا۔کہنے لگے کہ حمزہ بھی شہید ہوئے اور وہ مجھ سے بہتر تھے۔انہیں کفن کی چادر بھی میسر نہ آسکی تھی۔پھر ہمارے لئے دنیا کی کشائش ہوئی۔ہمیں دنیا سے جو مل ملا اور ہمیں ڈر ہے کہ کہیں ہماری نیکیوں کا ثواب ہمیں جلدی سے نہ دے دیا گیا ہو۔یعنی دنیا میں نہ مل گیا ہو۔پھر وہ رونے لگے اور اتنا روئے کہ انہوں نے کھانا چھوڑ دیا۔8 یہ وہ لوگ تھے جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔جو کشائش میں اپنے بھائیوں کو یاد کیا کرتے تھے۔اپنی جو گزشتہ حالت تھی اس کو سامنے رکھتے تھے تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جنتوں کی خوشخبریاں دی ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کے ساتھ مغفرت کا سلوک فرمائے اور درجات بلند سے بلند تر کر تا چلا جائے۔نوحہ اور بین سے پر حکمت انداز میں ممانعت 608 ایک روایت میں آتا ہے اور یہ حضرت عبد اللہ بن عمر کی روایت ہے کہ آنحضرت صلی لی کہ جب اُحد نوٹ: حدیث وسیرت کی دیگر مستند روایات کی روشنی میں شہدائے احد کا جنازہ اس وقت نہیں پڑھایا گیا۔مرتب