اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 239 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 239

اصحاب بدر جلد 4 239 پھر حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ نجد کے کچھ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔اسے میں چھوڑتا ہوں۔اور اس ضمن میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا حوالہ پیش کر دیتا ہوں۔یہ ذرا زیادہ تفصیلی ہے۔وہ اس واقعہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ایک شخص ابو براء عامِرِی جو وسط عرب کے قبیلہ بنو عامر کا ایک رئیس تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ملاقات کے لئے حاضر ہوا۔آپ نے بڑی نرمی سے اور شفقت کے ساتھ اسے اسلام کی تبلیغ فرمائی اور اس نے بھی بظاہر شوق اور توجہ کے ساتھ آپ کی تقریر کو سنا مگر مسلمان نہیں ہوا۔البتہ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عرض کیا کہ آپ میرے ساتھ اپنے چند اصحاب مجد کی طرف روانہ فرمائیں جو وہاں جا کر اہل نجد میں اسلام کی تبلیغ کریں اور مجھے امید ہے کہ مجدی لوگ آپ کی دعوت کو رد نہیں کریں گے۔آپ نے فرمایا: مجھے تو اہل مجد پر اعتماد نہیں ہے۔ابو براء نے کہا کہ آپ ہر گز فکر نہ کریں۔میں ان کی حفاظت کا ضامن ہو تا ہوں۔چونکہ ابوبراء ایک قبیلہ کار ئیں اور صاحب اثر آدمی تھا آپ نے اس کے اطمینان دلانے پر یقین کر لیا اور صحابہ کی ایک جماعت مسجد کی طرف روانہ فرما دی۔یہ تاریخ کی روایت ہے۔بخاری میں آتا ہے کہ قبائل رغل اور ذکوان وغیرہ (جو مشہور قبیلہ بنو سلیم کی شاخ تھے) ان کے چند لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام کا اظہار کر کے درخواست کی کہ ہماری قوم میں سے جو لوگ اسلام کے دشمن ہیں ان کے خلاف ہماری امداد کے لئے ( یہ تشریح نہیں کی کہ کس قسم کی امداد، آیا تبلیغی یا فوجی ) چند آدمی روانہ کئے جائیں۔جس پر آپ نے یہ دستہ روانہ فرمایا۔ان دونوں روایتوں کی مطابقت کی یہ صورت ہو سکتی ہے کہ رغل اور ذکوان کے لوگوں کے ساتھ ابو براء عامری رئیس قبیلہ عامر بھی آیا ہو اور اس نے ان کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات کی ہو۔چنانچہ تاریخی روایت کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ مجھے اہل مجد کی طرف سے اطمینان نہیں ہے اور پھر اس کا یہ جواب دینا کہ آپ وئی فکر نہ کریں۔میں اس کا ضامن ہو تا ہوں کہ آپ کے صحابہ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ابوبراء کے ساتھ رغل اور ذکوان کے لوگ بھی آئے تھے جن کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فکر مند تھے۔واللہ اعلم۔بہر حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صفر 14 ہجری میں مُنذر بن عمر و انصاری کی امارت میں صحابہ کی ایک پارٹی روانہ فرمائی۔یہ لوگ عموماً انصار میں سے تھے اور تعداد میں ستر تھے اور قریباً سارے کے سارے قاری یعنی قرآن خوان تھے جو دن کے وقت جنگل سے لکڑیاں جمع کر کے ان کی قیمت پر اپنا پیٹ پالتے اور رات کا بہت سا حصہ عبادت میں گزار دیتے تھے۔جب یہ لوگ اس مقام پر پہنچے جو ایک کنویں کی وجہ سے بئر معونہ کے نام سے مشہور تھا تو اُن میں سے ایک شخص حرام بن ملحان جو انس بن مالک کے ماموں تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دعوتِ اسلام کا پیغام لے کر قبیلہ عامر کے رئیس اور ابوبراء عامری کے بھتیجے عامر بن طفیل کے پاس