اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 238 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 238

اصحاب بدر جلد 4 238 اپنے رب سے جاملے ہیں۔وہ ہم سے خوش ہوا اور ہمیں خوش کر دیا۔تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیس دن ہر صبح ان کے خلاف یعنی رِغل، ذکوان، بنو لحیان اور خصیہ کے خلاف دعا کرتے رہے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بغاوت کی تھی۔یہ بخاری کی روایت ہے۔570 بخاری کی ایک اور روایت جو حضرت انس سے ہے اس کے مطابق نیزے کے بجائے ان کو بر چھا مارا گیا تھا۔571 ایک اور روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ماہ تک صبح کی نماز میں ان یعنی بنی سلیم کے دو قبیلوں رغل اور ذکوان کے خلاف دعا کرتے رہے حضرت انس کہتے ہیں کہ یہ قوت کی ابتدا تھی۔اس سے قبل ہم قنوت نہیں کیا کرتے تھے۔572 حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ حفاظ کی شہادت کے واقعے کو بیان فرماتے ہوئے صحابہ کی قربانیوں کے جذبہ کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ ”ہمیں تاریخ پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ جنگوں میں اس طرح جاتے تھے کہ ان کو یوں معلوم ہوتا تھا کہ جنگ میں شہید ہونا ان کے لئے عین راحت اور خوشی کا موجب ہے اور اگر ان کو لڑائی میں کوئی دکھ پہنچتا تھا تو وہ اس کو دکھ نہیں سمجھتے تھے بلکہ سکھ خیال کرتے تھے۔چنانچہ صحابہ کے کثرت کے ساتھ اس قسم کے واقعات تاریخوں میں ملتے ہیں کہ انہوں نے خدا کی راہ میں مارے جانے کو ہی اپنے لئے عین راحت محسوس کیا۔مثلاً وہ حفاظ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وسط عرب کے ایک قبیلہ کی طرف تبلیغ کے لئے بھیجے تھے ان میں سے حرام بن ملحان اسلام کا پیغام لے کر قبیلہ عامر کے رئیس عامر بن طفیل کے پاس گئے اور باقی صحابہ پیچھے رہے۔شروع میں تو عامر بن طفیل اور اس کے ساتھیوں نے منافقانہ طور پر ان کی آؤ بھگت کی لیکن جب وہ مطمئن ہو کر بیٹھ گئے اور تبلیغ کرنے لگے تو ان میں سے بعض شریروں نے ایک خبیث کو اشارہ کیا اور اس نے اشارہ پاتے ہی حرام بن ملحان پر پیچھے سے نیزہ کا وار کیا اور وہ گر گئے، گرتے وقت ان کی زبان سے بے ساختہ نکلا کہ اللہ اكْبَرُ فُرْتُ وَرَبَّ الْكَعْبَةِ یعنی مجھے کعبہ کے رب کی قسم ! میں نجات پا گیا۔پھر ان شریروں نے باقی صحابہ کا محاصرہ کیا اور ان پر حملہ آور ہو گئے۔اس موقع پر حضرت ابو بکر کے آزاد کردہ غلام عامر بن فہیرہ جو ہجرت کے سفر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ان کے متعلق ذکر آتا ہے بلکہ خود ان کا قاتل جو بعد میں مسلمان ہو گیا تھا وہ اپنے مسلمان ہونے کی وجہ ہی یہ بیان کرتا تھا کہ جب میں نے عامر بن فہیرہ کو شہید کیا تو ان کے منہ سے بے ساختہ نکا افزت والله یعنی خدا کی قسم ! میں تو اپنی مراد کو پہنچ گیا ہوں۔یہ واقعات بتاتے ہیں کہ صحابہ کے لئے موت بجائے رنج کے خوشی کا موجب ہوتی تھی۔573"