اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 233
بدر جلد 4 233 غزوہ بنو قریظہ کے موقعہ پر مشورہ يحيی بن سعید سے مروی ہے کہ آنحضور صلی علی یم نے یوم قریظہ اور یوم النضیر کے موقع پر جب لوگوں سے مشورہ طلب کیا تو حضرت حُباب بن منند کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ میری رائے یہ ہے کہ ہم محلات کے درمیان میں پڑاؤ کریں۔( یعنی ان کے قریب ترین جائیں تاکہ وہاں کی باتیں بھی معلوم ہو سکیں اور نگرانی بھی صحیح ہو سکے ) تو رسول اللہ صلی علیم نے ان کے اس مشورہ پر عمل کیا۔حضرت عمر کے دور خلافت میں ان کی وفات ہوئی۔13 563 نبی اکرم علی ایم کی وفات اور حضرت ابو بکر کا خطاب جب آنحضرت صلی اللی کم کا وصال ہوا تو اس وقت مسلمانوں کی جو صور تحال تھی اس کو حضرت ابو بکر نجس طرح کنٹرول میں لائے اس کا یہ واقعہ ہے کہ " حضرت ابو بکر نے حمد و ثنا بیان کی اور کہا کہ دیکھو جو محمد صلی اللہ ہم کو پوجتا تھا سن لے کہ محمد صلی ال کی تو یقینا فوت ہو گئے اور جو اللہ کو پوجتا تھا تو اسے یاد رہے کہ اللہ زندہ ہے کبھی نہیں مرے گا اور حضرت ابو بکر نے یہ آیت پڑھی إِنَّكَ مَيِّتَ وَإِنَّهُم مِّيِّتُونَ (از مرز G1 کہ تم بھی مرنے والے ہو اور وہ بھی مرنے والے ہیں۔پھر انہوں نے یہ آیت بھی پڑھی کہ وَمَا مُحَمَّد الاَ رَسُولُ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَأَبِنْ مَاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ ۖ وَمَنْ يَنْقَلِبُ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَ اللهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّكِرِينَ (آل عمران:145) کہ محمد صرف ایک رسول ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے پہلے سب رسول فوت ہو چکے ہیں۔پھر کیا اگر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) فوت ہو جائیں یا قتل کئے جائیں تو تم اپنی ایڑھیوں کے بل پھر جاؤ گے اور جو کوئی اپنی ایڑھیوں کے بل پھر E جائے تو وہ اللہ کو ہر گز نقصان نہ پہنچا سکے گا اور عنقریب اللہ شکر کرنے والوں کو بدلہ دے گا۔انتخاب خلافت سلیمان کہتے ہیں کہ یہ سن کر لوگ اتنا روئے کہ ہچکیاں بندھ گئیں۔سلیمان کہتے ہیں کہ اور انصار بنی ساعدہ کے گھر حضرت سعد بن عبادۃ کے پاس اکٹھے ہوئے اور کہنے لگے ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک امیر تم میں سے۔حضرت ابو بکر اور حضرت عمر بن خطاب اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراح ان کے پاس گئے۔حضرت عمر بولنے لگے تھے کہ حضرت ابو بکر نے انہیں خاموش کیا۔حضرت عمر کہتے تھے کہ اللہ کی قسم ! میں نے جو بولنا چاہا تھا تو اس لئے کہ میں نے ایسی تقریر تیار کی تھی جو مجھے پسند آئی تھی اور مجھے ڈر تھا کہ حضرت ابو بکر اس تک نہ پہنچ سکیں گے یعنی ویسانہ بول سکیں گے۔پھر اس کے بعد حضرت ابو بکر نے تقریر کی اور ایسی تقریر کی جو بلاغت میں تمام لوگوں کی تقریروں سے بڑھ کر تھی۔انہوں نے اپنی تقریر کے اثناء میں یہ بھی کہا کہ ہم امیر ہیں اور تم وزیر ہو۔حُباب بن منذر نے یہ سن کر کہا کہ ہر گز نہیں۔یہاں یہ ذکر اس لئے کر رہا ہوں کہ محباب بن منذر کا یہاں ذکر آتا ہے۔محباب بن منذر نے یہ سن کر یہ کہا کہ ہر گز نہیں اللہ