اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 229
اصحاب بدر جلد 4 229 بالعموم فقہاء نے حضرت عمر کی رائے کو ایک قابل عمل اصل کے طور پر تسلیم کیا ہے اور انہوں نے لکھا ہے کہ اسلامی حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ ریٹ مقرر کرے ورنہ قوم کے اخلاق اور دیانت میں فرق پڑ جائے گا امر یا د رکھنا چاہئے کہ اس جگہ انہی اشیاء کا ذکر ہے جو منڈی میں لائی جائیں۔جو اشیاء منڈی میں نہیں لائی جاتیں اور انفرادی حیثیت رکھتی ہیں ان کا یہاں ذکر نہیں۔پس جو چیزیں منڈی میں لائی جاتی ہیں اور فروخت کی جاتی ہیں اُن کے متعلق اسلام کا یہ واضح حکم ہے کہ ایک ریٹ مقرر ہونا چاہئے تا کوئی دکاندار قیمت میں کمی بیشی نہ کر سکے۔چنانچہ بعض آثار اور احادیث بھی فقہاء نے لکھی ہیں جن سے 551❝ اس کی تائید ہوتی ہے۔“ یہاں مقابلہ بازی میں پھر ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں اس لیے ایک ریٹ ہو۔غزوہ بنو مصطلق پانچ ہجری سے واپسی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نقیح کے مقام سے گزرے تو وہاں وسیع علاقہ اور گھاس دیکھی اور بہت سے کنویں دیکھے۔پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کنوؤں کے پانی کے متعلق پوچھا تو عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! جب ہم ان کنوؤں کی تعریف کرتے ہیں تو ان کا پانی کم ہو جاتا ہے اور کنویں بیٹھ جاتے ہیں۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و نے حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کو حکم دیا کہ وہ ایک کنواں کھودیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نقیع کو چراگاہ بنانے کا حکم دیا۔حضرت بلال بن حارث مزنی کو اس پر نگران مقرر فرمایا۔حضرت بلال نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اس زمین میں سے کتنے حصہ کو چراگاہ بناؤں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب طلوع فجر ہو جائے تو ایک بلند آواز شخص کو کھڑا کر و۔رات کے اندھیرے میں تو دُور تک آواز میں جاتی ہیں اس لیے دن کے وقت جب دن چڑھ جائے تو اس وقت ایک شخص کو کھڑا کرو پھر اسے معمل نامی پہاڑی پر کھڑا کر کے جہاں تک اس شخص کی آواز جائے اتنے حصہ کو مسلمانوں کے گھوڑوں اور اونٹوں کی چراگاہ بنا دو جس کے ذریعہ سے وہ جہاد کر سکیں۔یعنی جہاد کے لیے مسلمانوں کے جو گھوڑے اور اونٹ ہیں وہ وہاں چریں۔حضرت بلال نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !مسلمانوں کے چرنے والے جانوروں کے بارے میں کیا رائے ہے۔مسلمانوں کے جو دوسرے جانور ہیں ان کے بارے میں کیا رائے ہے ؟)۔آپ نے فرمایا: وہ اس میں داخل نہیں ہوں گے صرف جہادی جو جہاد کے لیے استعمال ہونے والے ہیں وہی اس جگہ سے چر سکتے ہیں۔باقی اپنی اپنی چراگاہوں پر جائیں۔حضرت بلال نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! اس کمزور مرد یا کمزور عورت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس کے پاس قلیل تعداد میں بھیڑ بکریاں ہوں اور وہ انہیں منتقل کرنے پر قدرت نہ رکھتے ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں چھوڑ دو اور انہیں چرنے دو۔جو غریبوں کا تھوڑا بہت