اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 226 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 226

تاب بدر جلد 4 226 کی ہیں کہ بعد میں حضرت عمر نے اپنے اس خیال سے رجوع کر لیا تھا۔لیکن بہر حال یہ بات ہے کہ بالعموم فقہاء نے حضرت عمر کی رائے کو ایک قابل عمل اصل کے طور پر تسلیم کیا ہے اور انہوں نے لکھا ہے کہ اسلامی حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ ریٹ (rate) مقرر کرے۔بازار کی قیمتیں مقرر کرے۔ورنہ قوم کے اخلاق اور دیانت میں فرق پڑ جائے گا۔مگر یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ اس جگہ انہی اشیاء کا ذکر ہے جو منڈی میں لائی جائیں لا کے کھلی مارکیٹ میں فروخت کی جائیں جو اشیاء منڈی میں نہیں لائی جاتیں اور انفرادی حیثیت رکھتی ہیں ان کا یہاں ذکر نہیں ہے۔پس جو چیزیں منڈی میں لائی جاتی ہیں اور فروخت کی جاتی ہیں۔ان کے متعلق اسلام کا یہ واضح حکم ہے کہ ایک ریٹ مقرر ہونا چاہئے قیمت مقرر ہونی چاہئے تا کوئی دوکاندار قیمت میں کمی بیشی نہ کر سکے۔چنانچہ بعض آثار اور احادیث فقہاء نے لکھی ہیں جن میں اس کی تائید کی ہے۔542 آنحضرت علی ایم کا سر کاری چراگاہ بنوانا حکومت کے نظام کے تحت چراگاہ اور وہاں پانی کے لئے کنوئیں کھدوانے کا کام بھی اسلامی حکومت کا کام ہے۔یہ کام بھی ایک دفعہ آنحضرت صلی علی یکم نے حضرت حاطب سے کروایا تھا۔چنانچہ اس بارے میں روایت میں آتا ہے کہ غزوہ بنو مصطلق سے واپسی پر رسول اللہ صلی علی یم نقیع کے مقام سے گزرے تو وہاں وسیع علاقہ اور گھاس دیکھی۔بہت بڑا علاقہ تھا اور ہر جگہ بڑا سبز علاقہ تھا اور بہت سے کنوئیں بھی تھے۔وہاں زمین کا پانی بھی اچھا تھا۔آپ صلی اللہ ہم نے ان کنوؤں کے پانی کے متعلق پوچھا۔تو عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول ! پانی تو یہ بڑا اچھا ہے۔لیکن جب ہم ان کنوؤں کی تعریف کرتے ہیں تو ان کا پانی کم ہو جاتا ہے اور کنوئیں بیٹھ جاتے ہیں۔اس پر رسول اللہ صلی علی یکم نے حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کو حکم دیا کہ وہ ایک کنواں کھو دیں اور آپ صلی علی یکم نے نقیع کو چراگاہ بنانے کا حکم دیا۔یعنی سرکاری چراگاہ جو حکومت کے انتظام کے تحت ہو گی۔حضرت بلال بن حارث مزنی کو اس پر نگران مقرر فرمایا۔حضرت بلال نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللی کم میں اس زمین میں سے کتنے حصہ کو چراگاہ بناؤں۔بڑا وسیع علاقہ ہے۔وہ کتنا حصہ ہے جو سرکاری چراگاہ بنانی ہے۔آپ صلی تعلیم نے فرمایا جب طلوع فجر ہو جائے تو پھر ایک بلند آواز شخص کو کھڑا کر ورات کے اندھیرے میں تو آواز بہت دور تک جاتی ہے ناں طلوع فجر ہو جائے تو بلند آواز شخص کو کھڑا کرو۔پھر اسے معمل نامی وہاں ایک پہاڑ تھا چھوٹا سا تھا اس پر کھڑ ا کرو۔پھر جہاں تک است کی آواز جائے اتنے حصے کو مسلمان مجاہدین کے گھوڑوں اور اونٹوں کی چراگاہ بنا دو۔یہ بھی ان کا ایک انتظام تھا۔فتنوں اور میلوں کی بات نہیں ہو رہی۔اس کے آخر میں مختلف کونوں میں لوگوں کو کھڑا کرو اور جہاں تک آواز جاتی ہے ، جہاں تک آواز پہنچ رہی ہے وہ اس چراگاہ کی باؤنڈری ہو گی۔اور وہ مسلمان مجاہدین کے گھوڑوں کے لئے اور اونٹوں کے لئے چراگاہ ہو گی جس کے ذریعہ سے وہ جہاد کر سکیں۔یہ بیت المال اور سر کاری چراگاہ ہے اور جنگ میں جانے والے جو مجاہدین ہیں ان کے گھوڑے اور اونٹ وہاں چریں گے۔حضرت بلال نے اس پر عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! مسلمانوں کے عام چرنے والے جانوروں کے