اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 211 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 211

تاب بدر جلد 4 211 کے کہ بہت سے پر امن شہریوں کی جان خطرے میں پڑے اور ملک کا امن برباد ہو۔اللہ تعالیٰ بھی یہی فرماتا ہے کہ فتنہ جو ہے وہ قتل سے بڑا ہے۔بہر حال اس معاہدے کی رو سے جو ہجرت کے بعد مسلمانوں اور یہود کے درمیان ہوا تھا آنحضرت علی ای کم کو ایک معمولی شہری کی حیثیت حاصل نہیں تھی بلکہ آپ اس جمہوری سلطنت کے صدر قرار پائے تھے جو مدینہ میں قائم ہوئی تھی اور آپ کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ جملہ تنازعات اور امور سیاسی میں جو فیصلہ مناسب خیال کریں صادر فرمائیں۔پس اگر آپ نے ملک کے امن کے مفاد میں کعب کی فتنہ پردازی کی وجہ سے اسے واجب القتل قرار دیا تو یہ کوئی ایسی بات نہیں تھی اس لئے تیرہ سو سال کے بعد اسلام پر اعتراض کرنے والوں کا یہ اعتراض جو ہے بالکل بودا ہے کیونکہ اس وقت تو یہودیوں نے آپ کی بات سن کے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا اور کبھی بھی اعتراض نہیں کیا۔تو یہ تھی اس کی حالت اور بہر حال پر ذکر ہوا تھا حضرت حارث بن اوس بن معاذ کا کہ یہ بھی اس قتل میں شامل تھے ، اس ٹیم میں جو اس کے قتل کے لئے بھیجی گئی تھی اور جو آنحضرت علی کم پر یا اسلام پر شدت پسندی کے الزامات لگتے ہیں وہ سب الزامات بھی غلط تھے۔وہ اس بات کا حق دار تھا کہ اس کو سزا دی جاتی اور آنحضرت صلی علیم نے سربراہ حکومت کی حیثیت سے اسے سزا دی۔515 514 69 نام و نسب و کنیت حضرت حارث بن حاطب ย حضرت حارث بن حاطب۔ان کی کنیت ابو عبد اللہ ہے۔آپ کی والدہ کا نام امامہ بنت صامت تھا۔آپ کا تعلق انصار قبیلہ اوس سے تھا۔حضرت ثعلبہ بن حاطب کے بھائی تھے۔جنگ میں شامل نہیں ہوئے لیکن آنحضرت علی ایم نے انہیں بدر میں شمار فرمایا حضرت حارث بن حاطب اور حضرت ابولبابہ بن عبد المندر حضور صلی علیم کے ہمراہ غزوہ بدر کے لئے جارہے تھے کہ روحاء کے مقام پر آنحضرت صلی علیم نے حضرت ابولبابہ بن عبد المنذر کو مدینہ کا حاکم جبکہ حضرت حارث بن حاطب کو قبیلہ بنو عمرو بن عوف کا امیر بنا کر مدینہ واپس بھجوادیا۔لیکن ان دونوں کو اصحاب بدر میں شامل فرماتے ہوئے مال غنیمت میں سے بھی حصہ دیا۔