اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 156
بدر جلد 4 156 کودنے کے لیے مقرر کر دیتے۔حبشی النسل بلال امیہ بن خلف نامی ایک مکی رئیس کے غلام تھے۔امیہ انہیں دو پہر کے وقت گرمی کے موسم میں مکہ سے باہر لے جا کر تپتی ریت پر ننگا کر کے لٹا دیتا تھا اور بڑے بڑے گرم پتھر ان کے سینہ پر رکھ کر کہتا تھا کہ لات اور غذمی کی الوہیت کو تسلیم کر اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سے علیحدگی کا اظہار کر۔بلال اس کے جواب میں کہتے اَحَدٌ اَحَدٌ۔یعنی اللہ ایک ہی ہے۔اللہ ایک ہی ہے۔بار بار آپ کا یہ جواب سن کر امیہ کو اور غصہ آجاتا اور وہ آپ کے گلے میں رسہ ڈال کر شریر لڑکوں کے حوالے کر دیتا اور کہتا کہ ان کو مکہ کی گلیوں میں پتھروں کے اوپر گھسیٹتے ہوئے لے جائیں۔جس کی وجہ سے ان کا بدن خون سے تر بتر ہو جاتا مگر وہ پھر بھی احد احد کہتے چلے جاتے۔یعنی خدا ایک، خدا ایک عرصہ کے بعد جب خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو مدینہ میں امن دیا، جب وہ آزادی سے عبادت کرنے کے قابل ہو گئے تو رسول کریم صلی للی کم نے بلال کو اذان دینے کے لیے مقرر کیا۔یہ حبشی غلام جب اذان میں اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا الله کی بجائے اَشهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا الله کہتا تو مدینہ کے لوگ جو اس کے حالات سے ناواقف تھے ہنسنے لگ جاتے۔ایک دفعہ رسول کریم صلی علیم نے ان لوگوں کو بلال کی اذان پر ہنتے ہوئے پایا تو آپ لوگوں کی طرف مڑے اور کہا تم بلال کی اذان پر بنتے ہو مگر خداتعالی عرش پر اس کی اذان سن کر خوش ہوتا ہے۔آپ کا اشارہ اسی طرف تھا کہ تمہیں تو یہ نظر آتا ہے کہ یہ ”ش“ نہیں بول سکتا مگر ”ش“ اور ”س“ میں کیا رکھا ہے۔خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ جب تپتی ریت پر سنگی پیٹھ کے ساتھ اس کو لٹا دیا جاتا تھا اور اس کے سینہ پر ظالم اپنی جوتیوں سمیت کو دا کرتے تھے اور پوچھتے تھے کہ کیا اب بھی سبق آیا ہے یا نہیں؟ تو یہ ٹوٹی پھوٹی زبان میں احد احد کہہ کر خدا تعالیٰ کی توحید کا اعلان کرتارہتا تھا اور اپنی وفاداری، اپنے توحید کے عقیدہ اور اپنے دل کی مضبوطی کا ثبوت دیتا تھا۔پس اس کا اسهَدُ بہت سے لوگوں کے اشہد سے زیادہ قیمتی تھا۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جب ان پر یہ ظلم دیکھے تو ان کے مالک کو ان کی قیمت ادا کر کے انہیں آزاد کروا دیا۔اسی طرح اور بہت سے غلاموں کو حضرت ابو بکڑ نے اپنے مال سے آزاد کرایا۔3 سابقون الاولون 39866 حضرت بلال کا شمار السَّابِقُونَ الْأَوَّلُون میں ہوتا ہے۔آپ نے اس وقت اسلام کا اعلان کیا جب صرف سات آدمیوں کو اس کے اعلان کی توفیق ہوئی تھی۔399 الله حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے بیان کیا کہ سب سے پہلے جنہوں نے اسلام کا اعلان فرمایا وہ سات ہیں۔رسول اللہ صلی علیم اور ابو بکر اور عمار اور ان کی والدہ سمیہ اور صہیب اور بلال اور مقداد۔پس رسول اللہ صلی علیم کو تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے چچا ابو طالب کے ذریعے سے محفوظ رکھا اور ابو بکر کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کے ذریعے سے سے محفوظ رکھا۔جیسا کہ میں گذشتہ ایک خطبے میں بیان کر چکا ہوں کہ نہ ہی آنحضرت ملا له م دشمنوں کی اذیتوں سے محفوظ رہے اور نہ قوم حضرت ابو بکر کو ظلموں سے بچا سکی۔آپ