اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 135 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 135

تاب بدر جلد 4 135 یہاں آئے تھے۔کہنے لگا کہ مجھے لگتا ہے کہ یہ لوگ بہت قریب ہیں۔اس کے بعد وہ وہاں سے جلدی جلدی اپنے قافلے کو لے کر روانہ ہو گیا۔345 ان عربوں کو اس زمانے میں بھی جاسوسی کے اندازے لگانے کا بڑا ملکہ تھا اور یہ بھی جاسوسی کے ہی انداز تھے۔نبی اکرم ملیالم کا بدر کے میدان کی طرف بڑھنا اس کے ذکر میں، بدر کی جنگ کے ذکر میں سیرت خاتم النبیین میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے یہ لکھا ہے کہ جب آپ صلی علیہ کم بدر کے قریب پہنچے تو کسی خیال کے ماتحت جس کا ذکر روایات میں نہیں ہے آپ حضرت ابو بکر صدیق کو اپنے پیچھے سوار کر کے اسلامی لشکر سے کچھ آگے نکل گئے۔اس وقت آپ کو ایک بوڑھا بدوی ملا جس سے آپ کو باتوں باتوں میں یہ معلوم ہوا کہ اس وقت قریش کا لشکر بدر کے بالکل پاس پہنچا ہوا ہے۔آپ یہ خبر سن کر واپس تشریف لے آئے اور حضرت علی اور زبیر بن العوام اور سعد بن وقاص و غیرہ کو دریافت حال کے لئے آگے روانہ فرمایا اور ایک روایت کے مطابق بھیجے جانے والوں میں حضرت بسبس بھی شامل تھے۔پہلے تو یہ لوگ گئے تھے قافلے کی خبر لینے کے لئے۔اب جو پتہ لگا کہ لشکر آ رہا ہے تو اس لشکر کی خبر لینے کے لئے جن لوگوں کو بھیجا ان میں یہ شامل تھے۔جب یہ لوگ بدر کی وادی میں گئے تو اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ مکہ کے چند لوگ ایک چشمہ سے پانی بھر رہے تھے۔ان صحابیوں نے ان پر ، جماعت پر حملہ کر کے ان میں سے ایک حبشی غلام کو پکڑ لیا اور اسے آنحضرت صلی الم کے پاس لے آئے۔جب وہ لے کر آئے اس وقت آنحضرت صلی اللہ کی نماز میں مصروف تھے۔صحابہ نے یہ دیکھ کر کہ آنحضرت صلی علم تو نماز میں مصروف ہیں خود اس غلام سے پوچھنا شروع کیا کہ ابو سفیان کا قافلہ کہاں ہے ؟ یہ حبشی غلام چونکہ لشکر کے ہمراہ آیا تھا۔وہ تو اس لشکر کے ہمراہ آیا تھا جو بدر کی جنگ کے لئے آ رہا تھا۔اس کو تو قافلے کا علم نہیں تھا اور وہ قافلے سے بے خبر تھا اس نے جواب میں کہا کہ ابوسفیان کا تو مجھے علم نہیں ہے البتہ ابوالحکم یعنی ابوجھل اور عُتبہ اور شیبہ اور اُمیہ وغیرہ اس وادی کے دوسرے کنارے ڈیرے ڈالے پڑے ہیں۔صحابہ نے جن کو تو صرف قافلے کا پتہ تھانا، یہی اندازہ تھا اور یہی انہوں نے دماغ میں بٹھایا ہو ا تھا تو انہوں نے یہی سمجھا کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے اور دیدہ دانستہ قافلے کی خبر کو چھپانا چاہتا ہے جس پر بعض لوگوں نے اسے کچھ مارا پیٹا بھی، زدو کوب کیا۔لیکن جب وہ اسے مارتے تھے وہ ڈر کے مارے کہہ دیتا تھا کہ اچھا میں بتاتا ہوں اور جب اسے چھوڑ دیتے تو وہ پھر وہی پہلا جواب دیتا تھا کہ مجھے ابوسفیان کا، اس کے قافلے کا علم نہیں ہے۔ہاں البتہ ابو جہل ایک لشکر لے کے آرہا ہے اور وہ پاس ہی موجود ہے۔آنحضرت صلی الی یکم نے یہ باتیں سنیں تو آپ نے جلدی سے نماز سے فارغ ہو کر صحابہ کو مارنے سے روکا اور فرمایا جب وہ سچی