اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 127 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 127

ناب بدر جلد 4 رض 127 ย نکلا یعنی فوری طور پر وہاں پانی ابلنے لگ گیا، پھوٹنے لگ گیا۔مجھے پانی نے ہر طرف سے گھیر لیا تھا اور پانی ایسے اہل رہا تھا جیسے دیچی ابلتی ہے یہاں تک کہ پانی بلند ہوا اور کناروں تک برابر ہو گیا۔لوگ اس کے کنارے سے پانی بھرتے تھے یہاں تک کہ ان میں سے آخری شخص نے بھی پیاس بجھالی۔اس دن منافقوں کا ایک گروہ وہاں پانی پر تھا جن میں عبد اللہ بن ابی بھی تھا جو حضرت اوس بن خولی کاماموں تھا۔حضرت آؤس بن خولی نے اسے کہا کہ اے ابو الحباب ! ہلاکت ہو تجھ پر۔اب تو تو اس معجزے کو مان لے جس پر تو خود موجود ہے۔آنحضرت صلی علیم کی سچائی کو مان لے۔کیا اس کے بعد کوئی گنجائش رہ گئی ہے ؟ تو اس نے جواب دیا میں اس جیسی بہت سی چیزیں دیکھ چکا ہوں تو اس کو حضرت آؤس بن خولی نے کہا اللہ تیر ابر اکرے اور تیری رائے کو برا ثابت کر دے۔عبد اللہ بن ابی رسول اللہ صلی الیکم کے پاس آیا تو رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا کہ اے ابو الحباب ! آج جو تو نے دیکھا ہے اس جیسا پہلے کب دیکھا تھا ؟ آنحضرت صلی یم کو بھی خبر پہنچی تو آپ نے پوچھا۔اس نے کہا کہ میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔رسول للہ علی الم نے فرمایا پھر وہ بات تم نے کیوں کہی یعنی جو اپنے بھانجے کو کہی تھی۔عبداللہ بن اُبی نے کہا استغفر الله - عبد اللہ بن ابی کے بیٹے حضرت عبد اللہ بن عبد اللہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ان کے لیے مغفرت کی دعا کیجئے۔چنانچہ رسول اللہ صلی الیم نے مغفرت کی دعا کی۔325 حضرت علی بن عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ال کلم نے جب عمرہ کے لیے مکہ جانے کا ارادہ فرما یا تو آپ نے آؤس بن خولی اور ابورافع کو حضرت عباس کی طرف پیغام دے کر بھیجا کہ وہ حضرت میمونہ کی شادی آپ سے کروا دیں۔راستے میں ان دونوں کے اونٹ کھو گئے۔وہ کچھ دن بطن رابغ یعنی رابغ جو مخفہ سے دس میل کے فاصلے پر واقع ہے وہاں رکے رہے۔یہاں تک کہ نبی کریم صلی علیکم تشریف لے آئے۔پھر ان دونوں کو ان کے اونٹ مل گئے۔پھر وہ نبی کریم صلی علیم کے ساتھ ہی مکہ گئے۔آپ نے حضرت عباس نے نبی کریم صلی علیہ کم سے حضرت میمونہ کی شادی کرادی۔16 آنحضرت علی السلام کی تجہیز و تکفین میں شمولیت کی سعادت 326 جب رسول اللہ صلی علی کم کی وفات ہوئی تو حضرت آؤس بن خولی نے حضرت علی بن ابی طالب سے کہا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ ہمیں بھی رسول اللہ صلی علیکم کی خدمت میں شریک کرلیں۔چنانچہ حضرت علی نے آپ کو اجازت دی۔اس کی ایک دوسری روایت اس طرح ملتی ہے کہ جب رسول اللہ صلی علیکم کی وفات ہوئی اور آپ کو غسل دینے کا ارادہ کیا گیا تو انصار آئے اور انہوں نے یہ کہا کہ اللہ اللہ ! ہم لوگ آپ کے ننھیالی ہیں۔انصار سے کہا گیا کہ تم لوگ اپنے میں سے کسی ایک شخص پر اتفاق کر لو۔کوئی ایک شخص مقرر دو۔تو انہوں نے حضرت آؤس بن خولی پر اتفاق کیا۔وہ اندر آئے اور آپ کے غنسل اور تدفین میں شریک رہے یعنی آنحضرت صلی علیم کے غسل اور تدفین میں شریک رہے۔حضرت اوس مضبوط آدمی تھے اس