اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 117
اصحاب بدر جلد 4 117 عتى بن ضمرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابی بن کعب سے کہا کہ آپ لوگوں کو جو ر سول اللہ صلی ال نیم کے صحابہ ہیں کیا ہو گیا ہے کہ ہم دور دراز سے آپ کے پاس آتے ہیں تاکہ آپ ہمیں کچھ کوئی خبریں اور واقعات سنائیں۔کوئی باتیں بتائیں اور ہمیں کچھ سکھائیں مگر جب ہم آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ لوگ ہماری بات کو معمولی گردانتے ہیں گویا کہ ہماری آپ کے نزدیک کوئی وقعت ہی نہیں ہے، کوئی حیثیت نہیں ہے۔اس پر ابی بن کعب نے کہا کہ اللہ کی قسم ! اگر میں اگلے جمعے تک زندہ رہا تو اس دن ایک ایسی بات بتاؤں گا کہ پھر مجھے پروا نہیں کہ خواہ تم مجھے اس کی وجہ سے زندہ رہنے دو یا قتل کر دو۔جب جمعہ آیا تو کہتے ہیں کہ میں مدینے گیا اور کیا دیکھتا ہوں کہ لوگ گلیوں میں موج در موج چل رہے ہیں۔میں نے کہا کہ ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ ایک شخص نے کہا کہ کیا تم اس شہر سے نہیں ہو ؟ میں نے کہا نہیں۔اس نے کہا کہ آج مسلمانوں کے سردار ابی بن کعب فوت ہو گئے ہیں۔اس پر یہ کہنے لگا کہ میں نے پھر کہا کہ واللہ !میں نے کبھی ایسا دن نہیں دیکھا جس میں اس طرح کسی شخص کی ستاری ہوئی ہو۔296 جیسے اس شخص یعنی ابی بن کعب کی ستاری ہوئی ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ میں ایسی بات بتاؤں گا کہ پتہ نہیں تم میرے ساتھ کیا کرو اس سے لگتا تو شاید یہی ہے ، راوی کی یہی مراد لگتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابی کو اس بات کے اظہار سے بچا لیا جس کو وہ دلی خوشی سے بیان نہیں کرنا چاہتے تھے۔باقی اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس فقرے سے کیا مراد ہے۔بہر حال اس نے ان کی وفات کا سن کر یہ فقرہ بولا کہ میں نے کبھی ایسا دن نہیں دیکھا جس میں اس طرح کسی شخص کی ستاری ہوئی ہو جیسے اس شخص یعنی ابی بن کعب گی ستاری ہوئی ہے۔حضرت ابی بن کعب سے روایت ہے کہ میں آٹھ راتوں میں قرآن کریم کا دور مکمل کر لیتا ہوں۔297 محبت رسول صلی۔درخت کا تنا اپنے پاس رکھ لیا حضرت ابی کی محبت رسول کا یہ عالم تھا کہ رسول اللہ صلی علی نام مسجد نبوی کے ستونوں میں سے کھجور کے ایک تنے کے ساتھ کھڑے ہو کر خطبہ دیا کرتے تھے۔پھر جب آپ کے لیے منبر بنایا گیا اور آپ جمعے کے دن اس پر بیٹھ کر خطبہ دینے لگے تو اس ستون میں سے چلانے کی آواز آئی جسے تمام اہل مسجد نے سنا۔رسول اللہ صلی العلیم اس ستون کے پاس آئے اور اس پر اپنا ہاتھ رکھا۔پھر اسے اپنے سینے سے لگایا تو وہ تنا اس معصوم بچہ کی طرح رونے لگا جسے چپ کرایا جاتا ہے یہاں تک کہ اسے قرار آگیا اور آواز آنا بند ہو گئی۔پھر جب مسجد گرائی گئی اور اس میں تبدیلی کر دی گئی تو حضرت ابی بن کعب نے وہ تنالے لیا۔وہ ان کے پاس تھا صرف اس وجہ سے کہ آنحضرت صلی ای ام اس کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑے ہوتے تھے تو وہ تنالے لیا۔اس کو اپنے گھر لے گئے یہاں تک کہ بوسیدہ ہو گیا۔دیمک نے اس کو کھا لیا۔ریزہ ریزہ ہو گیا۔لیکن انہوں نے اس کو اس محبت کی وجہ سے اپنے پاس رکھا۔یہ مسند احمد بن حنبل کی روایت ہے اور کچھ حصہ اس میں صحیح بخاری کا بھی ہے۔298