اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 118 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 118

تاب بدر جلد 4 قاضی 118 299 رسول اللہ صلی علیکم کے اصحاب میں چھ قاضی تھے حضرت عمر، حضرت علی، حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ، حضرت زید بن ثابت، حضرت ابو موسیٰ اشعری اور حضرت ابی بن کعب سمرة بن جندب بڑے رتبے کے صحابی تھے۔وہ نماز میں تکبیر کہنے اور سورت پڑھنے کے بعد ذرا توقف کیا کرتے تھے۔اللہ اکبر کہہ کے کچھ دیر خاموش رہتے تھے پھر سورہ فاتحہ پڑھتے تھے۔لوگوں نے ان پر اعتراض کیا۔انہوں نے حضرت اُبی کی خدمت میں لکھ کر بھیجا کہ اس کے متعلق تحریر فرمائیے کہ حقیقت کیا ہے۔حضرت ابی نے نہایت مختصر جواب تحریر کیا اور لکھا کہ آپ کا طریق عمل شریعت کے مطابق ہے۔یہ جو وقفہ آپ دیتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں۔یہ شریعت کے مطابق ہے اور جو معترضین ہیں، اعتراض کرنے والے ہیں وہ غلطی پر ہیں۔گری پڑی چیز امانت ہے اور دو سال تک اس کا اعلان 300 حضرت سويد بن غفله، زید بن صوحان اور سلیمان بن ربیعہ کے ہمراہ کسی غزوہ میں گئے تھے۔مقام عُذیب میں کوڑا پڑا ہوا تھا۔عذیب بنو تمیم کی ایک وادی ہے اور قادسیہ اور مغیقہ کے درمیان پانی کی ایک جگہ ہے جو قادسیہ سے چار میل کے فاصلے پر ہے۔بہر حال سوید نے اسے اٹھا لیا۔کوڑا پڑا تھا۔ان لوگوں نے کہا کہ اسے پھینک دو، شاید کسی مسلمان کا ہو۔انہوں نے کہا میں ہر گز نہیں پھینکوں گا۔پڑا رہے گا تو بھیڑیئے اس کو کھالیں گے۔ان کی غذا بن جائے گا۔اس سے بہتر ہے کہ میں اسے کام میں لاؤں۔اس سے کچھ دنوں بعد سوید حج کے ارادہ سے روانہ ہوئے۔راستے میں مدینہ پڑتا تھا۔حضرت اُبی کے پاس گئے اور کوڑے والا واقعہ بیان کیا۔حضرت اُبی نے کہا کہ اس قسم کا واقعہ مجھ کو بھی پیش آچکا ہے۔میں نے آنحضرت صلی علیکم کے عہد میں سو دینار پائے تھے۔اب چاہے وہ گوڑا ہے یا سو دینار ہیں ہر ایک کی اپنے اپنے لحاظ سے ایک ویلیو (value) ہے وہ امانت ہی ہے۔اب آگے جو آنحضرت صلی علیہ ہم نے فرمایا وہ سنیں۔حضرت ابی کہنے لگے کہ آنحضرت صلی علیم نے حکم دیا تھا کہ سال بھر تک لوگوں کو خبر کرتے رہو۔بتاتے رہو۔اعلان کر دو۔سال گزرنے کے بعد فرمایا روپے کی تعداد کا نشان و غیرہ یاد رکھنا اور ایک سال اور انتظار کرنا۔اگر کوئی نشان کے موافق طلب کرے تو اس کے حوالے کرنا ورنہ وہ تمہارا ہو چکا۔301 یعنی پورے دو سال۔کوئی بھی چیز ملے تو ایک سال اعلان کرو، ایک سال تک اس کی نشانیاں یاد رکھو اور اگر کوئی مطالبہ کرے تو دے دو۔آداب مسجد ایک شخص مسجد میں کسی گمشدہ چیز پر شور کر رہا تھا، اعلان کر رہا تھا میری فلاں چیز گم گئی ہے۔حضرت ابی