اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 116
تاب بدر جلد 4 116 292 گئے۔انہوں نے کہا ٹھیک ہے۔آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ایک مرتبہ حضرت عمر کی خلافت کے زمانے میں حضرت عمررؓ اور حضرت اُبی میں ایک باغ کی بابت اختلاف ہو گیا۔حضرت ابی رونے لگے اور کہا کہ آپ کے عہد میں یہ باتیں ؟ حضرت عمرؓ نے فرمایا میری نیت یہ نہیں تھی۔آپ کا جس مسلمان سے جی چاہے فیصلہ کروالیں۔میرے اور آپ کے درمیان اختلاف تو ہے میں حکم نہیں دے رہا۔فیصلہ کروالیں کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ میری رائے ٹھیک ہے تو ائی نے زید بن ثابت کا نام لیا کہ ان سے فیصلہ کراتے ہیں۔حضرت عمر راضی ہو گئے اور حضرت زید کے سامنے مقدمہ پیش ہوا۔گو حضرت عمرؓ خلیفہ اسلام تھے تاہم ایک فریق کی حیثیت سے حضرت زید بن ثابت کے اجلاس میں حاضر ہوئے۔حضرت عمر کو اُبی کے دعویٰ سے انکار تھا۔حضرت عمرؓ نے ان سے کہا کہ آپ بھولتے ہیں۔سوچ کے یاد کریں۔حضرت ابی کچھ دیر سوچتے رہے پھر کہا مجھے کچھ یاد نہیں آتا تو خود حضرت عمرؓ نے واقعہ کی صورت بیان کی اور ساری تفصیل بیان کی کہ اس طرح اس طرح ہوا تھا۔حضرت زید نے حضرت ابی سے پوچھا کہ آپ جو اپنا مطالبہ کر رہے ہیں اس کے لیے آپ کے پاس ثبوت کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کچھ نہیں۔بولے ثبوت کوئی نہیں ہے۔انہوں نے صرف یہ کہا کہ ثبوت تو کوئی نہیں۔اس وقت آپ امیر المومنین سے قسم نہ لیجیے۔کچھ نہیں ثبوت تو کوئی نہیں ہے لیکن بولے آپ امیر المومنین سے قسم نہ لیجیے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا اگر مجھ پر قسم ضروری ہے تو مجھے اس میں بھی کوئی تامل نہیں ہے لینی ہے یا نہیں لینی۔تو بہر حال اس کے بعد وہ فیصلہ ہو گیا جو بھی تھا۔293 294 جمع قرآن بورڈ کے صدر حضرت عثمان بن عفان نے قرآن جمع کرنے میں قریش اور انصار کے بارہ آدمیوں کو منتخب کیا جن میں حضرت ابی بن کعب اور حضرت زید بن ثابت بھی شامل تھے۔حضرت عثمان کے زمانے میں قرآن مجید میں لب و لہجے کا اختلاف تمام ملک میں عام ہو چکا تھا۔اس بنا پر آپ نے اس اختلاف کو مٹانا چاہا اور خود اصحاب قراءت کو طلب فرما کر ہر شخص سے جداجدا قراءت سنی۔حضرت ابی بن کعب، حضرت عبد اللہ بن عباس اور حضرت معاذ بن جبل سب کے لہجے میں اختلاف نظر آیا۔یہ دیکھ کر حضرت عثمان نے فرمایا کہ میں تمام مسلمانوں کو ایک تلفظ کے قرآن پر جمع کرنا چاہتا ہوں۔قریش اور انصار میں بارہ اشخاص تھے جن کو قرآن پر پورا عبور تھا۔حضرت عثمانؓ نے ان لوگوں کو یہ اہم کام تفویض فرمایا اور حضرت ابی بن کعب کو اس مجلس کا رئیس مقرر کیا۔آپ یعنی حضرت اُبی قرآن کے الفاظ بولتے جاتے اور حضرت زید لکھتے جاتے تھے۔آج قرآن مجید کے جس قدر نسخ موجود ہیں وہ حضرت ابی بن کعب کی قراءت کے مطابق ہیں۔295