اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 115
اصحاب بدر جلد 4 115 سیع کرنا چاہا تو حضرت عباس سے کہا کہ اپنا مکان فروخت کر دیں میں اس کو مسجد میں شامل کروں گا۔حضرت عباس نے کہا یہ نہیں ہو گا۔حضرت عمرؓ نے فرمایا اچھا تو ہبہ کر دو۔عباس نے اس سے بھی انکار کر دیا۔وہ اپنی مرضی کے بڑے مالک تھے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا اچھا آپ خود مسجد کو وسیع کر دیں۔چلیں اپنی طرف سے یہ کر دیں۔آپ کی طرف سے بڑا اچھاgesture ہو جائے گا۔اور امت کے لیے مسجد وسیع ہو گی اپنا مکان اس میں داخل کر دیں۔اس پر بھی حضرت عباس نے کہا یہ بھی نہیں ہو گا۔اس پہ بھی وہ راضی نہیں ہوئے۔حضرت عمرؓ نے کہا ان تین باتوں میں سے کوئی ایک بات آپ کو ماننی ہو گی۔حضرت عباس نے کہا میں ایک بھی نہیں مانوں گا۔آخر دونوں نے حضرت ابی بن کعب ضو اپنا حکم بنالیا۔حکم تک بات پہنچی۔حضرت ابی نے حضرت عمر کو کہا: بلا رضامندی آپ کو ان کی چیز لینے کا کیا حق ہے۔حضرت ابی نے کہا کہ نہیں۔آپؐ نہیں لے سکتے۔حضرت عمر نے اُبی سے پوچھا اس کے متعلق قرآن مجید کی رو سے نکالا ہے یا حدیث سے۔حضرت اُبی نے کہا کہ حدیث سے اور وہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان نے جب بیت المقدس کی عمارت بنوائی تو اس کی ایک دیوار جو کسی دوسرے کی زمین پر بنوائی تھی گر پڑی۔حضرت سلیمان کے پاس وحی آئی کہ اس سے اجازت لے کر بنائیں۔بات سنی تو حضرت عمررؓ اس پر خاموش ہو گئے لیکن بہر حال حضرت عباس کا اخلاص و وفاتو تھا۔بہر حال خلافت کے لیے عہد بیعت بھی تھا تو وہ خیال بھی اپنی طبیعت پر غالب آگیا اور ایک دفعہ انکار تو کر چکے تھے لیکن بہر حال اب نیکی اور تقویٰ تو تھا ہی ناں اور دین کی غیرت بھی تھی اور خلافت کا احترام بھی تھا۔بہر حال پھر ظاہر ہو گیا۔جب حضرت عمرؓ خاموش ہو گئے تو پھر انہوں نے حضرت عمرؓ سے کہا کہ اچھا میں اس کو ، اپنے مکان کو مسجد میں شامل کر تا ہوں۔' حضرت عمر نے ایک مرتبہ ارادہ کیا کہ حج تمتع سے لوگوں کو روک دیں۔تین قسم کے حج ہوتے ہیں۔بعض نوجوانوں کو بھی شاید نہیں پتہ ہو۔حج تمتع وہ ہوتا ہے کہ عمرہ کا احرام باندھ کے مکے پہنچتے ہیں اور پہلے عمرہ کرتے ہیں پھر احرام کھول دیتے ہیں پھر آٹھویں ذوالحجہ کو نیا احرام باندھتے ہیں پھر حج کرتے ہیں یہ حج تمتع ہے۔اور عام جو حج ہے وہ حج مفرد ہے جو عموما ہو تا ہے اور قران جو ہے وہ یہی ہے کہ عمرہ اور حج ایک ہی احرام میں ہو جاتا ہے۔بہر حال حضرت عمر نے حج تمتع سے روکا۔حضرت اُبی نے کہا کہ اس کو روکنے کا آپ کو کوئی اختیار نہیں ہے۔حضرت عمر کو روک دیا کہ یہ نہیں ہو سکتا۔یہ غلط ہے۔بہر حال پھر حضرت عمرؓ نے نہیں کیا۔پھر ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے ارادہ کیا کہ حیرہ کوفہ سے تین میل کے فاصلہ پر نجف کے علاقے میں ایک شہر ہے وہاں کے خلے پہننے سے منع کریں۔حضرت عمر نے ارادہ کیا کیونکہ اس رنگ میں پیشاب کی آمیزش ہوتی ہے یا ہو سکتا ہے وہ رنگ کاٹنے کے لیے کسی جانور کا پیشاب شامل کیا جاتا ہو تو بہر حال حضرت اُبی نے کہا اس کے بھی آپ مجاز نہیں ہیں۔کہتے ہیں کیونکہ خود رسول اللہ صلی علیم نے اس رنگ کے کپڑے کو پہنا ہے اور وہاں کے حلے کو پہنا ہے اور ہم لوگوں نے بھی آنحضرت صلی الم کے زمانے میں پہنا ہے اور کبھی اعتراض نہیں ہوا اس لیے اس پر حضرت عمرؓ خاموش ہو 291