اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 107
تاب بدر جلد 4 107 تھے۔حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی علیکم فرمایا کرتے تھے خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ (مِنْ) عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ وَ سَالِمٍ وَ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَ أبي بن كعب۔جن لوگوں نے قرآن پڑھنا ہو وہ ان چار سے قرآن پڑھیں۔عبد اللہ بن مسعودؓ ، سالم، معاذ بن جبل اور ابی بن کعب۔یہ چار تو وہ ہیں جنہوں نے سارا قرآن رسول اللہ صلی اللہ ہم سے سیکھا یا آپ کو سنا کر اس کی تصحیح کرالی لیکن ان کے علاوہ بھی بہت سے صحابہ رسول اللہ صلی الم سے بر اور است بھی کچھ نہ کچھ قرآن سیکھتے رہتے تھے۔265" کیا اللہ نے میر انام لیا تھا؟ حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی صلی الی یکم نے حضرت ابی کو فرمایا اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں سورۃ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتب پڑھ کر سناؤں۔حضرت اُبی نے پوچھا کیا میرا الله سة نام لیا تھا ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔حضرت ابی یہ سن کر رو پڑے۔یہ بخاری کی روایت ہے۔266 جبکہ ایک دوسری روایت میں ذکر ہے کہ حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی المینیوم نے حضرت ابی بن کعب سے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں۔حضرت اُبی نے پوچھا کیا اللہ نے آپؐ سے میرا نام لیا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔حضرت اُبی نے عرض کیا: دونوں جہانوں کے پالنے والے کے ہاں میر اذکر ہوا ہے۔رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا ہاں۔اس پر حضرت ابی کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔267 اس واقعے کی تفصیل حضرت مصلح موعودؓ نے بھی اپنے الفاظ میں اس طرح بیان فرمائی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ ابو حَيَّة بدری سے روایت ہے کہ جب سورة لغد يكن سب کی سب نازل ہوئی ہے ( یعنی یہ اکٹھی نازل ہوئی ہے) تو جبریل نے رسول کریم صلی علیم سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ یہ سورۃ ابی بن کعب کو یاد کرا دیں۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت ابی بن کعب سے کہا کہ جبریل نے مجھے حکم دیا ہے یعنی خدا تعالیٰ کا یہ حکم مجھے پہنچایا ہے کہ میں یہ سورۃ تم کو یاد کر ا دوں۔ابی بن کعب نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میرا بھی خدا تعالیٰ کے حضور میں ذکر آیا تھا ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔اس پر ابی بن کعب خوشی کے مارے رو پڑے۔“ سة 26866 حفاظ قرآن رسول الله صلى ال ملک کے بعد حضرت عمر فاروق نے اس جملے کی یاد کو کئی مرتبہ تازہ کیا۔ایک مرتبہ مسجد نبوی کے منبر پر کہا کہ سب سے بڑے قاری اُبی نہیں۔شام کے مشہور سفر میں مقام جابیہ ، یہ جابیہ دمشق کے علاقے کی ایک بستی کا نام ہے ، وہاں اس کے خطبہ میں فرمایا کہ مَنْ أَرَادَ الْقُرْآنَ فَلْيَأْتِ أَبَيًّا یعنی جس کو قرآن کا ذوق ہو وہ اُئی کے پاس آئے۔269 حضرت انس سے روایت ہے کہ چار شخصوں نے نبی صلی علی یلم کے زمانے میں قرآن سارے کا سارا