اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 100
ناب بدر جلد 4 100 سے تنگ آکر صلح کی پیشکش کی لیکن شرط یہ رکھی کہ خود حضرت عمر آکر صلح کا معاہدہ کریں۔حضرت ابو عبیدہ نے عیسائیوں کی اس پیشکش کو حضرت عمر تک پہنچایا، حضرت عمر کو اس کی اطلاع دی۔حضرت عمرؓ حضرت علی ہو اپنے پیچھے امیر مقرر فرما کر ربیع الاول 16/ ہجری کو مدینے سے روانہ ہو کر جابیہ مقام پر جو دمشق کے مضافات میں ایک بستی ہے وہاں پہنچے جہاں قائدین نے آپ کا استقبال کیا، وہاں قائدین موجود تھے۔آپ نے فرمایا کہ میر ابھائی کہاں ہے ؟ لوگوں نے پوچھا یا امیر المومنین! آپ کی مراد کون ہے ؟ آپ نے فرمایا ابو عبیدہ عرض کیا گیا کہ ابھی آتے ہیں۔اتنے میں حضرت ابو عبیدہ اونٹنی پر سوار ہو کر آئے اور سلام عرض کر کے خیریت دریافت کی۔حضرت عمرؓ نے باقی سب لو گوں کو جانے کے لیے کہا اور خود حضرت ابو عبیدہ کے ساتھ ان کی قیام گاہ پر تشریف لائے۔گھر پہنچ کر دیکھا کہ وہاں صرف ایک تلوار ، ڈھال، چٹائی اور ایک پیالے کے سوا کچھ نہ تھا۔حضرت عمرؓ نے فرمایا ابو عبیدہ کچھ سامان بھی مہیا کر لیتے۔گھر میں کچھ تو سامان رکھنا چاہیے۔حضرت ابو عبیدہ نے عرض کی یا امیر المومنین ! یہ ہمیں آسائش کی طرف مائل کر دے گا۔اگر چہ میں سامان تو مہیا کر سکتا ہوں لیکن پھر آسائشوں اور سہولتوں کو دیکھ کر انہی چیزوں میں پڑ جاؤں گا۔اس لیے میں نہیں چاہتا کہ ایسی چیزیں رکھوں۔مدت بعد ایک بار پھر بلال کا اذان دینا اس موقع پر حضرت بلال کی اذان کا ایک روح پرور واقعہ بھی پیش آیا۔پہلے بھی بیان ہو چکا ہے۔حضرت بلال رسول اللہ صلی ال یکم کی وفات کے بعد اذان نہ دیتے تھے۔اس موقعے پر ایک دفعہ نماز کا وقت ہو اتو لوگوں نے حضرت عمرؓ سے اصرار کیا کہ وہ حضرت بلال کو اذان دینے کا حکم دیں۔حضرت عمرؓ کے حکم پر حضرت بلال نے جب اذان دی تو سب آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔لوگوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور لوگوں میں سب سے زیادہ حضرت عمر روئے کیونکہ اس اذان نے انہیں رسول اللہ صلی الی یکم کا زمانہ یاد کرادیا۔250 مفتوحہ علاقے لینے کی رومیوں کی آخری کوشش رومیوں کی آخری کوشش کے بارے میں لکھا ہے کہ 17 / ہجری میں رومیوں نے مسلمانوں سے شام واپس لینے کے لیے ایک آخری کوشش کی اور شمالی شام، الجزیرہ، شمالی عراق اور آرمینیا کے کر دوں، بدوؤں، عیسائیوں اور ایرانیوں نے ہر قل سے اپیل کی کہ مسلمانوں کے خلاف ان کی مدد کی جائے۔انہوں نے اپنی طرف سے تیس ہزار کے لشکر کی پیشکش کی۔گو کہ اس وقت تک الجزیرہ کا اکثر حصہ حضرت سعد بن ابی وقاص نے فتح کر لیا تھا مگر تاہم وہاں کے بدوؤں پر ابھی تک ان کا قبضہ نہیں ہوا تھا اور قیصر روم کی بحری طاقت ابھی برقرار تھی۔اس نے موقعے کو غنیمت جانا اور ایک بڑی بحری فوج کے ساتھ حملہ کر دیا جبکہ بدوی قبائل کے ایک عظیم لشکر نے حمص کا محاصرہ کر لیا اور شمالی شام کے کچھ