اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 99 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 99

تاب بدر جلد 4 99 مذہبی آزادی دی اور اس اسلامی روح کو جاری کیا کہ تمام لوگ حضرت آدم کی اولاد ہیں اور سب بھائی بھائی ہیں اور ان میں انسان ہونے کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں یعنی بعض دفعہ یہ بھی غلط الزام لگایا جاتا ہے کہ زبر دستی مسلمان بنایا۔آپ نے ان رومیوں کو مذہبی آزادی دی۔قبیلوں کی پہچان کروائی۔امن سکون قائم فرمایا۔مذہبی آزادی قائم فرمائی۔حضرت ابو عبیدہ ہی کی کوششوں سے جو عرب لوگ شام میں آباد تھے اور عیسائی مذہب کے پیرو تھے اسلام کی آغوش میں آگئے۔تبلیغ سے آئے، طاقت سے نہیں آئے۔یا اس کے علاوہ مسلمانوں کا نمونہ دیکھ کے آئے جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے۔اس کے علاوہ رومی اور عیسائی بھی آپ کے اخلاق سے متاثر ہو کر اسلام لے آئے۔یرموک کی فتح سے چند روز قبل حضرت ، ابو بکر کا وصال ہو گیا، آپ کی وفات ہو گئی اور حضرت عمر خلیفہ منتخب ہوئے۔حضرت عمر نے شام کی نگرانی اور فوجوں کی قیادت حضرت ابو عبیدہ کے سپرد کی۔جب حضرت ابو عبیدہ کو حضرت عمر کی اس تقریر کا خط پہنچا تو اس وقت جنگ پورے زوروں پر تھی اس لیے حضرت ابو عبیدہ نے اس کا اظہار نہ کیا اور حضرت خالد بن ولید کو جب اس کا علم ہوا کیونکہ حضرت خالد بن ولید اس وقت کمانڈر تھے تو انہوں نے پوچھا کہ آپ نے اس کو کیوں چھپائے رکھا۔حضرت ابو عبیدہ نے فرمایا اس لیے کہ ہم دشمن کے بالمقابل تھے اور میں کسی طرح آپ کی دل شکنی نہیں چاہتا تھا۔جب مسلمانوں کو فتح ہوئی تو حضرت خالد کا لشکر عراق واپس جانے لگا تو حضرت ابو عبیدہ نے حضرت خالد کو کچھ دیر اپنے پاس روکے رکھا۔جب حضرت خالد روانہ ہونے لگے تو انہوں نے لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ تمہیں خوش ہونا چاہیے کہ اس امت کے امین تمہارے والی ہیں یعنی حضرت ابو عبیدہ۔اس پر ابو عبیدہ نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی علیم سے سنا ہے کہ خالد بن ولید خدا کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے۔غرض اس طرح محبت اور احترام کی فضا میں دونوں قائد ایک دوسرے سے جدا ہوئے۔249 ہر عہدیدار اور احمدی کے لئے نمونہ یہ ہے مومن کا تقویٰ کہ نہ نام کی خواہش، نہ نمود کی خواہش، نہ کسی افسری اور عہدے کی خواہش۔مقصد ہے تو صرف ایک کہ خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کی جائے اور خدا تعالیٰ کی بادشاہت دنیا میں قائم کی جائے۔پس یہ لوگ جو ہیں یہ ہمارے لیے اسوہ حسنہ ہیں۔اور ہر عہدے دار کو بلکہ ہر احمدی کو ان باتوں کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔فتح بیت المقدس اور خلیفہ کر سول ملی ایم حضرت عمر کی تشریف آوری فتح بیت المقدس کا واقعہ بیان ہو تا ہے۔اس کا بھی تعلق حضرت ابو عبیدہ کے ساتھ ہے۔حضرہ عمرو بن عاص کی قیادت میں اسلامی لشکر فلسطین کی طرف بڑھا۔انہوں نے جب فلسطین کے شہروں کو فتح کر کے بیت المقدس کا محاصرہ کر لیا تو حضرت ابو عبیدہ کا لشکر بھی ان سے آن ملا۔عیسائیوں نے قلعہ بندی