اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 92
92 صحاب بدر جلد 4 بن حسنہ تھے جو بلقاء کی طرف سے آگے بڑھے۔تیسرے کے قائد حضرت عمر و بن عاص تھے جو فلسطین کی طرف سے شام میں داخل ہوئے۔چوتھے دستے کے قائد حضرت ابو عبیدہ بن جراح " تھے جو حمص کی طرف بڑھے۔حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا کہ جب یہ سب ایک جگہ اکٹھے ہو جائیں تو حضرت ابو عبیدہ بن جراح سپہ سالار ہوں گے۔ہر لشکر چار ہزار پر مشتمل تھا جبکہ حضرت ابو عبیدہ کا لشکر آٹھ ہزار کا تھا۔جب لشکر روانہ ہونے لگے تو حضرت ابو بکر نے قائدین لشکر کو فرمایا دیکھو! نہ اپنے پر تنگی وارد کرنا نہ اپنے ساتھیوں پر۔اپنی قوم اور ساتھیوں پر ناراضگی کا اظہار نہ کرنا۔ان سے مشورے کرنا اور انصاف سے کام لینا۔ظلم وجور سے دور رہنا کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاتا اور کبھی کامیابی کا منہ نہیں دیکھتا۔اور جب تمہاری دشمن سے مڈھ بھیڑ ہو جائے تو دشمن کو پیٹھ نہیں دکھانا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو اس دن پیٹھ پھیرے گا اس پر خدا کا غضب ٹوٹے گا اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہو گا سوائے اس کے کہ جو لڑائی کے لیے جگہ بدلتا ہے یا اپنے ساتھیوں سے رابطہ قائم کرنا چاہتا ہے۔قرآن کریم میں سورہ انفال میں آیت سترہ میں یہ لکھا ہوا ہے۔پھر فرمایا کہ دیکھو اجب تم دشمن پر غلبہ پاؤ تو کسی بچے، بوڑھے اور عورت کو قتل نہ کرنا، کسی جانور کو ہلاک نہ کرنا، عہد شکنی نہ کرنا، معاہدہ کر کے اسے خود نہ توڑنا۔رض حضرت ابو عبید گانے سب سے پہلے شام کے شہر مآب کو فتح کیا۔وہاں کے باشندوں نے جزیہ کی شرط پر صلح کر لی۔اس کے بعد آپ نے جابیہ کا رخ کیا۔وہاں پہنچے تو دیکھا کہ رومیوں کا بڑا لشکر مقابلے کے لیے تیار ہے۔اس پر حضرت ابو عبیدہ نے حضرت ابو بکر کی خدمت میں مزید مدد کے لیے درخواست کی۔حضرت ابو بکر نے حضرت خالد بن ولید جو اس وقت عراق کی مہم پر مامور تھے ان سے فرمایا کہ نصف لشکر حضرت مثنی بن حارث کی قیادت میں چھوڑ کر تم حضرت ابو عبیدہ کی مدد کو پہنچ جاؤ اور حضرت ابو بکر نے حضرت ابو عبیدہ کو خط لکھا کہ میں نے خالد کو امیر مقرر کیا ہے اور میں خوب جانتا ہوں کہ تم اس سے بہتر اور افضل ہو۔پورے خط کا متن یہ ہے کہ اللہ کے بندے عتیق بن ابو قحافہ۔عتیق حضرت ابو بکر کا اصل نام تھا اور ابو قحافہ ان کے والد کا نام تھا۔اللہ کے بندے عقیق بن ابو قحافہ کا خط ابو عبیدہ بن جراح کے نام۔تجھ پر خدا کی سلامتی ہو۔میں نے شام کی فوجوں کی کمان خالد کے سپرد کی ہے۔آپ اس کی مخالفت نہ کرنا اور سنا اور اطاعت کرنا۔میں نے تمہیں اس پر والی مقرر کیا ہے۔میں جانتا ہوں کہ تم اس سے افضل ہو لیکن میرا خیال ہے کہ اس میں، خالد بن ولید ھیں ، فن حرب کی صلاحیت یعنی جنگی معاملات کی صلاحیت تمہاری نسبت بہت زیادہ ہے۔اللہ مجھے اور تمہیں صحیح راہ پر گامزن رکھے۔حضرت ابو بکر نے یہ لکھا۔حضرت خالد بن ولید نے حیرہ، عراق میں ایک شہر کا نام ہے وہاں سے حضرت ابو عبیدہ کو خط لکھا کہ اللہ کی آپ پر سلامتی ہو۔مجھے حضرت ابو بکر نے شام کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیا ہے اور فوجوں کی قیادت میرے سپر دفرمائی ہے۔خدا کی قسم !میں نے اس کا کبھی مطالبہ نہیں کیا اور نہ میری خواہش تھی۔