اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 79
ناب بدر جلد 4 79 سے مزاحاً فرماتے کہ اے ابو عمیر الغیر نے کیا کیا؟ ابو عمیر نے ایک چڑیا پالی ہوئی تھی۔تغیر چڑیا کو کہتے ہیں۔وہ مرگئی تو ان کو اس کا بڑا صدمہ تھا۔وہ یا اڑگئی یا مر گئی۔تو بہر حال مذاقاً اسے یہ فرماتے تھے۔اس کی وجہ سے اس بچے کو چھیڑتے تھے۔اکثر ایسا ہو تا کہ نماز کا وقت ہو جاتا اور نبی صلی ہی کم ہمارے گھر میں ہوتے تو آپ اس بستر کو بچھانے کا حکم فرماتے جس پر آپ تشریف فرما ہوتے۔چنانچہ ہم اس کو بچھاتے اور صاف کرتے۔پھر آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے اور ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز ادا کرتے۔12 اپنے مونہہ میں چبائی ہوئی کھجور کی گھٹی اور نام رکھنا 202 حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ جب عبد اللہ بن ابو طلحہ انصاری کی ولادت ہوئی۔ان کے بھائی کی، ابو طلحہ کے بیٹے کی جو ان کی ماں کی طرف سے بھائی تھے تو میں اسے لے کر رسول اللہ صلی یی کم کی خدمت میں حاضر ہوا۔رسول اللہ صلی علی یکم اپنی عباء اوڑھے ہوئے تھے اور اپنے اونٹ کو تار کول لگا رہے تھے۔آپ نے فرمایا کیا تمہارے پاس کھجور ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں۔میں نے چند کھجور میں آپ کی خدمت میں پیش کیں جنہیں آپ نے منہ میں ڈالا اور پھر انہیں اچھی طرح چبایا۔پھر بچے کا منہ کھولا اور اسے بچے کے منہ میں ڈالا تو وہ بچہ اسے چوسنے لگا۔اس پر رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا کہ انصار کی کھجور سے محبت۔یعنی بچے کو بھی یہ پسند آئی اور آپ نے اس بچے کا نام عبد اللہ رکھا۔13 بہادر ماں کا قابل رشک صبر ورضا حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو طلحہ کا ایک بیٹا بیمار تھا۔حضرت ابو طلحہ باہر گئے تو بچے کی وفات ہو گئی۔جب حضرت ابو طلحہ واپس لوٹے تو انہوں نے بیوی سے پوچھا: بیٹے کا کیا حال ہے ؟ حضرت اُم سلیم نے کہا کہ پہلے سے زیادہ سکون میں ہے۔پھر انہوں نے رات کا کھانا پیش کیا۔انہوں نے کھایا۔رات گزاری اور پھر بتایا کہ بچے کی وفات ہو گئی ہے اس کو جا کے دفتا آؤ۔چنانچہ صبح حضرت ابوطلحہ نے یہ بات آنحضرت صلی للی کم کی خدمت میں عرض کی۔آنحضرت صلی للہ ہم نے انہیں اولاد کی دعادی اور اس کے بعد پھر ان کے ہاں بیٹا پیدا ہوا۔204 حضرت مصلح موعودؓ نے اس واقعے کا یوں تذکرہ فرمایا ہے کہ مومن کے لیے جان کی قربانی پیش کرنا در حقیقت چیز ہی کوئی نہیں ہے۔پھر آپؐ فرماتے ہیں کہ غالب کے متعلق لوگ بخشیں کرتے ہیں کہ وہ شراب پیا کرتا تھا یا نہیں پیا کرتا تھا مگر آپ فرماتے ہیں میر ا تو وہ رشتے دار ہے اور میں نے اپنی نانیوں اور پھوپھیوں سے سنا ہوا ہے کہ وہ شراب پیتا تھا۔تو ایسا شخص جو شراب کا عادی تھاوہ بھی کہتا ہے کہ: جان دی دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا یعنی اگر ہم خدا تعالیٰ کی راہ میں جان دیتے ہیں تو کیا ہوا۔یہ جان بھی تو اسی کی دی ہوئی تھی۔پس خدا تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں اگر کوئی شخص جان بھی دے دیتا ہے تو وہ کوئی بڑی قربانی نہیں کرتا کیونکہ