اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 67 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 67

اصحاب بدر جلد 4 67 سب سے زیادہ دور گھر لیکن عصر کی نماز نبی اکرم صلی نام کے ساتھ حضرت انس بن مالک نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللی نیلم کے اصحاب میں سے دو آدمیوں کے گھر سے سے زیادہ دور تھے۔ایک حضرت ابو لبابہ بن عبد المنذر کا۔ان کا گھر قبا میں تھا اور حضرت ابو عبس بن جبر۔یہ قبیلہ بنو حارثہ میں رہتے تھے۔وہ دونوں عصر کی نماز رسول اللہ صلی العلیم کے ساتھ پڑھنے کے لئے آیا کرتے تھے۔161 علامہ ابن عبد البر اپنی تصنیف الاستیعاب میں لکھتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ قرآن مجید کی آیت وَأَخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَ أَخَرَ سَيْئًا (سو رات بہ :102) کہ ” اور کچھ التوب دوسرے ہیں جنہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کیا انہوں نے اچھے اعمال اور دوسرے بد اعمال ملا جلا لیے میں فرماتے ہیں کہ یہ آیت ابو لبابہ اور ان کے ساتھ سات آٹھ یا نو آدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔یہ حضرات غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے۔بعد میں شرمسار ہوئے اور خدا کے حضور توبہ کی اور اپنے آپ کو ستونوں کے ساتھ باندھ لیا۔ان کا اچھا عمل تو بہ اور ان کا بر اعمل جہاد سے پیچھے رہنا تھا۔162 مجمع بن جاریہ سے روایت ہے کہ حضرت خنساء بنت خدام حضرت انیس بن قتادہ کی زوجیت میں تھیں جب آپ غزوہ احد کے دن شہید ہوئے۔پھر حضرت خنساء بنت خدام کے والد نے آپ کی شادی مزینہ قبیلہ کے ایک آدمی سے کی جسے آپ نا پسند کرتی تھیں۔حضرت خنساء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح فسح کر دیا تو حضرت خنساء سے حضرت ابو لبابہ نے شادی کی جس سے حضرت سَائِب بن ابو لبابہ پیدا ہوئے۔عبد الجبار بن وزد سے روایت ہے کہ میں نے ابن ابی ملیکہ سے سنا، وہ فرماتے تھے کہ عبد اللہ بن ابی یزید کا کہنا ہے کہ حضرت ابو لبابہ ہمارے پاس سے گزرے ہم ان کے ساتھ تھے یہاں تک کہ وہ اپنے گھر میں گئے ان کے ساتھ ہم بھی گھر میں داخل ہوئے۔ہم نے دیکھا کہ ایک شخص پھٹے پرانے کپڑے میں بیٹھا ہے۔میں نے اُس سے سنا وہ کہتا تھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص قرآن کو خوش آواز سے نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔164 163