اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 544
بدر جلد 4 544 1221 سلام نے فرمایا ٹھہرارہ اسے حراء ا یقیناً تجھ پر ایک نبی یا صدیق یا شہید ہے۔کسی نے پوچھاوہ دس جنتی لوگ کون ہیں ؟ حضرت سعید بن زید نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابو بکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد اور عبد الرحمن بن عوف ہیں۔اور کہا گیا کہ دسواں کون ہے تو حضرت سعید بن زید نے کہا وہ میں۔سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر، حضرت عمررؓ، حضرت عثمانؓ ، حضرت علی، حضرت طلحہ ، حضرت زبیر، حضرت سعد، حضرت عبد الرحمن اور حضرت سعید بن زید میدانِ جنگ میں رسول اللہ صلی الم کے آگے ہوتے یعنی آپ کا دفاع کرتے اور نماز میں آپ کے پیچھے کھڑے ہوتے۔1222 حکیم بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت سعید بن زید کی انگو ٹھی میں قرآن کریم کی آیت لکھی ہوئی دیکھی۔1223 شوق جہاد میں گورنر کا عہدہ لینے سے انکار رض حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں شام کے معرکے میں جب با قاعدہ فوج کشی ہوئی تو حضرت سعید بن زید حضرت ابو عبیدہ کے ماتحت پیدل فوج کی افسری پر متعین ہوئے۔دمشق کے محاصرے اور یرموک کی فیصلہ کن جنگ میں نمایاں شجاعت اور جانبازی کے ساتھ شریک رہے۔جنگ کے دوران حضرت سعید بن زید کو دمشق کی گورنری پر مامور کیا گیا لیکن انہوں نے حضرت ابو عبیدہ کو لکھا کہ میں ایسا نہیں کر سکتا کہ آپ لوگ جہاد کریں اور میں اس سے محروم رہوں۔اس لیے خط پہنچتے ہی میری جگہ پر کسی اور کو بھیج دیں اور میں جلد سے جلد آپ کے پاس پہنچتا ہوں۔چنانچہ حضرت ابوعبیدہ نے مجبور یزید بن ابوسفیان کو بھیجوا دیا اور حضرت سعید بن زید دوبارہ جنگ میں شامل ہو گئے۔1224 اپنے زہد و انقاء کے باعث ان جھگڑوں سے ہمیشہ کنارہ کش رہے 1225 حضرت سعید بن زید کے سامنے بہت سے انقلابات برپا ہوئے، بیبیوں خانہ جنگیاں پیش آئیں اور گو وہ اپنے زہد و انتقاء کے باعث ان جھگڑوں سے ہمیشہ کنارہ کش رہے تاہم جس کی نسبت جو رائے رکھتے تھے اس کو آزادی کے ساتھ ظاہر کرنے میں تامل بھی نہیں کرتے تھے۔حضرت عثمان شہید ہوئے تو وہ عموماً کوفہ کی مسجد میں فرمایا کرتے تھے کہ تم لوگوں نے عثمان کے ساتھ جو سلوک کیا اس سے اگر احد پہاڑ متزلزل ہو جائے تو کچھ عجب نہیں۔اسی طرح ایک روز کوفہ کی جامع مسجد میں مغیرہ بن شعبہ نے حضرت علی کی شان میں برابھلا کہا تو حضرت سعید بن زید نے فرمایا اے مغیرہ بن شعب ! اے مغیرہ بن شعب ! اے مغیرہ بن شعب ! میں نے رسول اللہ صلی علیم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دس جنت میں ہوں گے اور ان میں سے ایک حضرت علی بھی تھے۔1226