اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 523 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 523

بدر جلد 4 523 آنحضرت صلی کم کی طرف اس لیے نظر اٹھا کر نہیں دیکھ سکتے تھے کہ شرم تھی، حیا تھی لیکن فیصلے کے لیے حکم مقرر کیے گئے تھے تو پوچھنا بھی ضروری تھا۔اس لیے نظریں بڑی نیچی کر کے آپ نے رسول اللہ صلی علیم کی طرف بھی منہ کر کے پوچھا کہ آپ بھی وعدہ کرتے ہیں "رسول اللہ صلی نیلم نے فرمایا ہاں۔اس کے بعد سعد نے “ جب تینوں فریقوں سے وعدہ لے لیا تو سعد نے ”بائبل کے حکم کے مطابق فیصلہ سنایا۔بائبل میں لکھا ہے : اور جب تو کسی شہر کے پاس اس سے لڑنے کے لیے آپہنچے تو پہلے اس سے صلح کا پیغام کر۔تب یوں ہو گا کہ اگر وہ تجھے جواب دے کہ صلح منظور اور دروازہ تیرے لیے کھول دے تو ساری خلق جو اس شہر میں پائی جائے تیری خراج گزار ہو گی اور تیری خدمت کرے گی اور اگر وہ تجھ سے صلح نہ کرے بلکہ تجھ سے جنگ کرے تو تُو اس کا محاصرہ کر اور جب خداوند تیرا خدا اسے تیرے قبضہ میں کر دے تو وہاں کے ہر ایک مرد کو تلوار کی دھار سے قتل کر۔مگر عورتوں اور لڑکوں اور مواشی کو اور جو کچھ اس شہر میں ہو اس کا سارا لوٹ اپنے لیے لے اور تو اپنے دشمنوں کی اس لوٹ کو جو خداوند تیرے خدا نے تجھے دی ہے کھا ئیو۔اسی طرح سے تو ان سب شہروں سے جو تجھ سے بہت دور ہیں اور ان قوموں کے شہروں میں سے نہیں ہیں، یہی حال کیجیو۔لیکن ان قوموں کے شہروں میں جنہیں خداوند تیر اخدا تیری میراث کر دیتا ہے کسی چیز کو جو سانس لیتی ہے جیتا نہ چھوڑ یو بلکہ تو ان کو حرم کیجیو۔چینی اور آموری اور کنعانی اور فَرَزِی اور حوی اور یبوسی کو جیسا کہ خداوند تیرے خدا نے تجھے حکم کیا ہے تاکہ وے اپنے سارے کر یہ کاموں کے مطابق جو انہوں نے اپنے معبودوں سے کیسے تم کو عمل کرنانہ سکھائیں اور کہ تم خداوند اپنے خدا کے گنہگار ہو جاؤ“۔1179 یہ بائبل کے الفاظ ہیں۔حضرت سعد نے یہ پڑھے اور اس کے مطابق فیصلہ کیا۔”بائبل کے اس فیصلہ سے ظاہر ہے کہ اگر یہودی جیت جاتے اور محمد رسول اللہ صلی للی یک بار جاتے تو بائبل کے اس فیصلہ کے مطابق اول تو تمام مسلمان قتل کر دیئے جاتے۔مرد بھی اور عورت بھی اور بچے بھی اور جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ یہودیوں کا یہی ارادہ تھا کہ مردوں، عورتوں اور بچوں سب کو یکدم قتل کر دیا جائے لیکن اگر وہ ان سے بڑی سے بڑی رعایت کرتے تب بھی کتاب استثناء کے مذکورہ بالا فیصلہ کے مطابق وہ ان سے دور کے ملکوں والی قوموں کا سا سلوک کرتے اور تمام مردوں کو قتل کر دیتے اور عورتوں اور لڑکوں اور سامانوں کو لوٹ لیتے۔سعد نے جو بنو قریظہ کے حلیف تھے اور ان کے دوستوں میں سے تھے دیکھا کہ یہود نے اسلامی شریعت کے مطابق، جو یقیناً ان کی جان کی حفاظت کرتی، محمد رسول اللہ صلی الی یوم کے فیصلہ کو تسلیم نہیں کیا تو انہوں نے وہی فیصلہ یہود کے متعلق کیا جو “ حضرت موسی نے استثناء میں پہلے سے ایسے مواقع کے لیے کر چھوڑا تھا۔اور اس فیصلہ کی ذمہ داری محمد رسول اللہ صلی علی کم پر یا مسلمانوں پر نہیں “ یہ تو ان کی اپنی کتاب کے مطابق فیصلہ تھا بلکہ موسیٰ پر اور تورات پر اور ان یہودیوں پر ہے جنہوں نے غیر قوموں کے ساتھ ہزاروں سال اس طرح معاملہ کیا تھا اور جن کو محمد رسول اللہ صلی العلم کے رحم کے لیے بلایا گیا تو انہوں نے انکار کر دیا اور کہا ہم محمد رسول اللہ صلی اللی کم کی بات ماننے کے لیے تیار نہیں۔ہم سعد حضرت سعد کی بات مانیں گے۔جب سعد نے موسیٰ کے فیصلہ کے مطابق