اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 508 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 508

اصحاب بدر جلد 4 508 1159 بھائی نے کہی تھی۔کہنے لگا نہیں۔میں بھولا نہیں ہوں۔میں تھوڑی دور ان کے ساتھ جانا چاہتا ہوں۔واپس آجاؤں گا آخر تک نہیں جاؤں گا۔جب امیہ نکلا تو جس منزل میں بھی وہ اتر تا وہاں اپنا اونٹ کا گھٹنا باندھ دیتا۔وہ یہی احتیاط کرتارہا یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے بدر میں اس کو ہلاک کر دیا۔9 اس قتل کا واقعہ پہلے بھی ایک جگہ بیان ہو چکا ہے اور حضرت عبد الرحمن بن عوف کے ذکر میں گذشتہ خطبے میں بھی بیان ہو چکا ہے جب حضرت بلال نے انصار کو بلا کر اس کے ظلم کی وجہ سے اسے قتل کروا دیا جو وہ حضرت بلال پر کیا کرتا تھا۔حضرت مصلح موعود سعد بن معاذ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ”مدینہ کے ایک رئیس سعد بن معاذ جو اوس قبیلہ کے سردار تھے بیت اللہ کا طواف کرنے کے لیے مکہ گئے تو ابو جہل نے ان کو دیکھ کر بڑے غصہ سے کہا۔کیا تم لوگ یہ خیال کرتے ہو کہ اس مرتد (محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کو پناہ دینے کے بعد تم لوگ امن کے ساتھ کعبہ کا طواف کر سکو گے اور تم یہ گمان کرتے ہو کہ تم اس کی حفاظت اور امداد کی طاقت رکھتے ہو ؟ خدا کی قسم ! اگر اس وقت تیرے ساتھ ابو صفوان نہ ہو تا تو تو اپنے گھر والوں کے پاس بیچ کر نہ جا سکتا۔سعد بن معاذ نے کہا واللہ ! اگر تم نے ہمیں کعبہ سے روکا تو یا درکھو پھر تمہیں بھی تمہارے شامی راستہ پر امن نہیں مل سکے گا۔1160" بدر کے روز اوس کا جھنڈ ا حضرت سعد بن معاذ کے پاس حضرت سعد بن معاذ غزوہ بدر، احد اور خندق میں رسول اللہ صلی الی ایم کے ساتھ شامل ہوئے۔غزوہ بدر کے روز اوس کا جھنڈا حضرت سعد بن معاذ کے پاس تھا۔1161 غزوہ بدر اور سعد بن معاذ کا آنحضرت صلی ا تم سے محبت و فدائیت کا اظہار غزوہ بدر کے موقعے پر حضرت سعد بن معاذ کا جوش و جذبہ اور آنحضرت صلی علیم سے محبت و فدائیت کا اظہار اس واقعے سے ہوتا ہے جو بدر میں انہوں نے آنحضرت صلی علی ایم کو اپنی رائے دی تھی اور جس کا حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرت خاتم النبیین میں یوں ذکر کیا ہے کہ جب مسلمان وادی صفرا، صفرا بھی بدر اور مدینے کے درمیان ایک وادی کا نام ہے جہاں آپ نے بدر کا تمام مال غنیمت مسلمانوں میں برابر تقسیم فرمایا تھا۔اس وادی میں کھجور کے درخت اور کھیتی باڑی بھی کثرت سے ہوتی ہے۔اس کے اور بدر کے درمیان ایک مرحلے کا فاصلہ ہے۔بہر حال جب وہ اس وادی کے ایک پہلو سے گزرے اور گزرتے ہوئے زیران میں پہنچے جو بدر سے صرف ایک منزل ورے ہے تو یہ اطلاع موصول ہوئی کہ قافلے کی حفاظت کے لیے قریش کا ایک بڑا جرار لشکر مکہ سے آرہا ہے۔وہ ایک تجارتی قافلہ جو پہلے تھا اس کی مدد کے لیے ایک اور جرار لشکر آرہا ہے۔ان کو شک تھا کہ شاید مدینہ والے اس قافلے پر حملہ کرنے والے ہیں۔اب چونکہ اخفائے راز کا موقع گزر چکا تھا۔چھپی ہوئی بات نہیں رہی تھی۔آنحضرت صلی للی یکم نے تمام صحابہ کو جمع کرکے انہیں اس خبر سے اطلاع دی اور ان