اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 502
اصحاب بدر جلد 4 502 رئیس کا نام سعد بن معاذ تھا جو صرف قبیلہ بنو عبد الاشہل کے ہی رئیس اعظم نہیں تھے بلکہ تمام قبیلہ اوس کے سردار تھے۔جب مدینہ میں اسلام کا چرچا ہوا تو سعد بن معاذ کو یہ بُرا معلوم ہوا اور انہوں نے ایسے روکنا چاہا۔جب سعد بن معاذ مسلمان نہیں ہوئے تھے اور جب اسلام مدینے میں پھیلنا شروع ہوا یہ قبیلے کے رئیس تھے تو ان کو بہت بر الگا۔مگر اسعد بن زرارہ سے ان کی بہت قریب کی رشتہ داری تھی ایک دوسرے کے خالہ زاد بھائی تھے اور اسعد مسلمان ہو چکے تھے اس لیے سعد بن معاذ خود براہ راست دخل دیتے ہوئے جھجکتے تھے۔رکھتے تھے کہ آپس میں رشتہ داریوں میں کوئی بدمزگی پیدا نہ ہو جائے۔لہذا انہوں نے اپنے ایک دوسرے رشتہ دار اُسید بن الحضیر سے کہا کہ آسعد بن زرارہ کی وجہ سے مجھے تو کچھ حجاب ہے مگر تم جاکر مصعب کو روک دو کہ ہمارے لوگوں میں یہ بے دینی نہ پھیلائیں۔آنحضرت صلی ا لم نے مکے سے جو مبلغ بھیجے تھے ان کو جا کے رو کو کہ یہ دین ہمارے شہر میں نہ پھیلائیں اور اسعد سے بھی کہہ دو کہ یہ طریق اچھا نہیں ہے۔اُسید جو تھے وہ قبیلہ بنو اشکل کے ممتاز رؤسا میں سے تھے۔حتی کہ ان کا والد جنگِ بعات میں تمام اوس کا سر دار رہ چکا تھا۔جنگ بعاث جو ہے اس کا پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے کہ یہ جنگ اسلام سے قبل مدینے کے دو قبائل اوس اور خزرج کے درمیان ہوئی تھی۔بہر حال سعد بن معاذ کے بعد اُسید بن حضیر کا اپنے قبیلہ پر بہت اثر تھا۔چنانچہ سعد کے کہنے پر وه مصعب بن عمیر اور اسعد بن زرارہ کے پاس گئے اور مصعب سے مخاطب ہو کر غصہ کے لہجہ میں کہا۔تم کیوں ہمارے آدمیوں کو بے دین کرتے پھرتے ہو۔اس سے باز آجاؤ ورنہ اچھا نہیں ہو گا۔پیشتر اس کے کہ مصعب کچھ جواب دیتے اسعد نے آہستگی سے مصعب سے کہا کہ یہ اپنے قبیلہ کے ایک با اثر رئیس ہیں ان سے بہت نرمی اور محبت سے بات کرنا۔چنانچہ مصعب نے بڑے ادب اور محبت کے رنگ میں اسیڈ سے کہا کہ آپ ناراض نہ ہوں بلکہ مہربانی فرما کر تھوڑی دیر تشریف رکھیں، ٹھنڈے دل سے ہماری بات سن لیں اور اس کے بعد کوئی رائے قائم کریں۔اُسید اس بات کو معقول سمجھ کر بیٹھ گئے اور مصعب نے انہیں قرآن شریف سنایا اور بڑی محبت کے پیرا یہ میں اسلامی تعلیم سے آگاہ کیا۔اُسید پر اتنا اثر ہوا کہ وہیں مسلمان ہو گئے اور پھر کہنے لگے کہ میرے پیچھے ایک ایسا شخص ہے جو اگر ایمان لے آیا تو ہمارا سارا قبیلہ مسلمان ہو جائے گا جس نے مجھے بھیجا ہے۔تم ٹھہرو میں اسے بھی یہاں بھیجتا ہوں۔یہ کہہ کر اسید اٹھ کر چلے گئے اور کسی بہانہ سے سعد بن معاذ کو مُصعب بن محمیر اور اسعد بن زرارہ کی طرف بھیجوا دیا۔سعد بن معاذ آئے اور بڑے غضبناک ہو کر اسعد بن زرارہ سے کہنے لگے کہ دیکھو اسعد ! تم اپنی قرابت داری کا ناجائز فائدہ اٹھارہے ہو۔میری جو تمہارے سے رشتہ داری ہے اس کا ناجائز فائدہ اٹھارہے ہو اور یہ ٹھیک نہیں ہے۔اس پر مصعب نے جو مبلغ تھے اور مکہ سے آئے ہوئے تھے، اسی طرح نرمی اور محبت کے ساتھ ان کو ٹھنڈا کیا۔حضرت مصعب نے بڑی محبت سے ان سے بات کی۔انہوں نے کہا کہ آپ ذرا تھوڑی دیر تشریف رکھ کر میری بات سن لیں اور پھر اگر اس میں کوئی چیز قابل - ย رض