اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 501
تاب بدر جلد 4 501 کے گھر میں ہی لوگوں کو اسلام کی دعوت دیا کرتے تھے۔حضرت سعد بن معاذ اور حضرت اسعد بن زرارہ خالہ زاد بھائی تھے اور حضرت سعد بن معاذ اور حضرت اُسید بن حضیر نے بنو عبد الاشہل کے بت توڑے تھے۔ایک ہی خاندان کے تھے۔اس لیے جب سارا قبیلہ مسلمان ہو گیا تو انہوں نے ان کے بت توڑے۔مواخات رسول الله صلى ال ل ل لم نے حضرت سعد کی مؤاخات حضرت سعد بن ابی وقاص سے کی تھی۔ایک دوسری روایت کے مطابق آپ کی مؤاخات حضرت ابوعبیدہ بن الجراح " سے کی تھی۔1155 حضرت سعد بن معاذ کے قبولیت اسلام کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرت خاتم النبیین میں جو لکھا ہے وہ یہ ہے۔لکھتے ہیں کہ بیعت عقبہ اولیٰ کے بعد مکہ سے رخصت ہوتے ہوئے ان بارہ نو مسلمین نے درخواست کی کہ کوئی اسلامی معلم ہمارے ساتھ بھیجا جاوے تا کہ وہ ہمیں وہاں دین سکھائے ہمیں اسلام کی تعلیم دے اور ہمارے مشرک بھائیوں کو اسلام کی تبلیغ کرے۔آنحضرت صلی ہم نے مصعب بن عمیر کو جو قبیلہ عبدالدار کے ایک نہایت مخلص نوجوان تھے ان کے ساتھ روانہ کر دیا۔حضرت مصعب بن محمیر کو بھیج دیا۔اسلامی مبلغ ان دنوں میں قاری یا مقری کہلاتے تھے کیونکہ ان کا کام زیادہ تر قرآن شریف سنانا تھا کیونکہ یہی تبلیغ اسلام کا بہترین ذریعہ تھا۔چنانچہ مُصْعَب بھی جب مبلغ بن کے یثرب میں گئے تو اسی وجہ سے مقری کے نام سے مشہور ہو گئے۔مُصْعَب بن عمیر نے مدینہ پہنچ کر اسعد بن زرارہ کے مکان پر قیام کیا۔غالباً اس کا کچھ حصہ میں مصعب بن عمیر کے ذکر میں بھی بتا چکا ہوں۔بہر حال یہاں بھی یہ ذکر ہے۔انہوں نے اسعد بن زرارہ کے مکان پر قیام کیا جو مدینے میں سب سے پہلے مسلمان تھے۔یہ اسعد بن زرارہ ویسے بھی ایک نہایت مخلص اور با اثر بزرگ تھے اور اسی مکان کو اپنا تبلیغی مرکز بنایا اور اپنے فرائض کی ادائیگی میں ہمہ تن مصروف ہو گئے۔اور چونکہ مدینے میں مسلمانوں کو اجتماعی زندگی نصیب تھی اور تھی بھی نسبتاً امن کی زندگی، اس لیے اسعد بن زرارہ کی تجویز پر آنحضرت صلی علی یم نے مصعب بن عمیر کو جمعے کی نماز کی ہدایت فرمائی۔اس طرح مسلمانوں کی اشتراکی زندگی کا آغاز اور اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل ہوا کہ تھوڑے ہی عرصہ میں مدینہ میں گھر گھر اسلام کا چرچا ہونے لگا۔جمعہ با قاعدہ وہاں پڑھا جانے لگا اور اسلام کا چرچا بھی ہونے لگا اور اوس اور خزرج بڑی سرعت کے ساتھ مسلمان ہونے شروع ہو گئے۔بعض صورتوں میں تو ایک قبیلے کا قبیلہ ایک دن میں ہی سب کا سب مسلمان ہو گیا۔چنانچہ بنو عبد الاشہل کا قبیلہ بھی اسی طرح ایک ہی وقت میں اکٹھا مسلمان ہوا تھا۔یہ قبیلہ انصار کے مشہور قبیلہ اوس کا ایک ممتاز حصہ تھا اور اس کے