اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 487 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 487

اصحاب بدر جلد 4 487 پھر اسی حوالے سے مسلم کی ہی ایک اور روایت بھی ہے جو حضرت مغیرہ بن شعبہ سے مروی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ حضرت سعد بن عبادہ نے کہا اگر میں کسی شخص کو اپنی بیوی کے پاس دیکھوں تو اسے قتل کر دوں اور تلوار بھی چوڑے رخ سے نہیں دھار کے رخ سے۔یہ بات رسول اللہ صلی علیہم کو پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ کیا تم سعد کی غیرت پر تعجب کرتے ہو۔اللہ کی قسم ! میں اس سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ مجھ سے زیادہ غیرت مند ہے۔اللہ نے اپنی غیرت ہی کی وجہ سے بے حیائیوں کو منع فرمایا ہے جو ان میں سے ظاہر ہوں اور جو پوشیدہ ہوں اور کوئی شخص بھی اللہ سے زیادہ غیرت مند نہیں اور اللہ سے بڑھ کر کوئی شخص معذرت کرنے کو پسند نہیں کرتا۔اللہ سے زیادہ کوئی غیرت مند بھی نہیں اور اللہ جتنا معذرت کو پسند کرتا ہے، تو بہ کو پسند کرتا ہے، معافی کو پسند کرتا ہے کوئی شخص اس میں اللہ سے زیادہ بڑھ نہیں سکتا۔آپ نے فرمایا کہ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو بشارت دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر مبعوث فرمایا ہے۔بشارت بھی دیتے ہیں ڈراتے بھی ہیں۔اور کوئی شخص اللہ سے بڑھ کر مدح کو پسند نہیں کرتا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ کی مدح، تعریف برائیوں سے بچنا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس وجہ سے جنت کا بھی وعدہ کیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ سزا بھی دیتا ہے تو جلدی نہیں کرتا۔انسان کہہ دے میں غیرت کھا گیا اور جلدی کی۔تو بہ کرنے والے کو معاف بھی فرماتا ہے اور صرف معاف ہی نہیں کرتا بلکہ نواز تا بھی ہے۔پس اللہ 1141 تعالیٰ کے قانون سے، آپ نے فرمایا آگے نہ بڑھو۔جو اللہ تعالیٰ کے قانون ہیں اس کے اندر رہو۔حدیث میں ایک روایت مسند احمد بن حنبل کی ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کر میم ملی ایم نے ان سے فرمایا فلاں قبیلے کے صدقات کی نگرانی کرو لیکن دیکھنا قیامت کے دن اس حال میں نہ آنا کہ تم اپنے کندھے پر کسی جوان اونٹ کو لادے ہوئے ہو اور وہ قیامت کے روز چیخ رہا ہو۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! پھر یہ ذمہ داری کسی اور کے سپرد فرما دیجیے تو آپ نے یہ کام ان کے سپرد نہیں کیا۔1142 یعنی نگرانی کا پھر حق ادا کرنا ہو گا۔انصاف کرنا ہو گا اور کسی قسم کی خیانت نہیں ہو گی۔اگر خیانت ہوئی، انصاف نہ ہوا، اس کا حق ادا نہ ہوا تو پھر یہ بہت بڑا گناہ ہے اور قیامت کے دن اس کا جواب دہ ہونا ہو گا۔آنحضرت صلی الم کے دور میں چھ انصار نے قرآن کریم جمع کیا تھا آنحضرت صلی علیم کے دور میں چھ انصار نے قرآن کریم جمع کیا تھا جن میں حضرت سعد بن عبادہ بھی شامل تھے۔43 1143 حضرت مصلح موعود اس ضمن میں فرماتے ہیں کہ انصار میں سے جو مشہور حفاظ تھے ان کے نام یہ ہیں : عبادہ بن صامت۔معاذ مجمع بن حارثہ۔فَضَاله بن عُبيد - مسلمه بن مخلد - ابو دَرْدَاء - ابوزید زید بن ثابت۔اُبی بن کعب اور سعد بن رض