اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 486
اصحاب بدر جلد 4 ان پر 486 افضل قرار دیا ہے۔اس پر ان سے کہا گیا کہ آنحضرت صلی علیم نے آپ کو بھی تو بہت سے لوگوں پر فضیلت دی ہے۔1137 حضرت ابواسید انصاری گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیہ ہم نے فرمایا کہ انصار کے بہترین گھر بنو نجار ہیں۔پھر بنو عبد اشہل۔پھر بنو حارث بن خزرج اور پھر بنو ساعدہ اور انصار کے سب گھروں میں بھلائی ہے۔راوی ابو سلمہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو اسید نے کہا کہ رسول اللہ سے یہ روایت کرنے پر مجھے متہم کیا جاتا ہے۔اگر میں غلط کہہ رہاہوتا تو ضرور اپنی قوم بنو ساعدہ سے شروع کرتا۔یہ بات حضرت سعد بن عبادہ تک پہنچی تو بھی بڑی گراں گزری۔پہلی بھی جو روایت ہے اس میں بھی ان کا اظہار یہ تھا کہ ہمیں انہوں نے کہا کہ ہمیں پیچھے کر دیا گیا ہے یہاں تک کہ ہم چار میں سے آخری ہو گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میرے لیے یعنی سعد بن عبادہ نے کہا کہ میرے لیے میرے گدھے پر زین کسو۔میں رسول اللہ صلی علیم کی خدمت میں جارہا ہوں۔ان کے بھتیجے سہل نے ان سے کہا، سعد بن عبادہ کے بھیجے نے کہا کہ کیا آپ اس لیے جارہے ہیں کہ رسول اللہ صلی الی یکم کی بات کی تردید کریں۔جو آپ نے ترتیب بیان کی ہے اس کے بارے میں بلا وجہ جا کے پوچھیں حالانکہ رسول اللہ صلی علیکم زیادہ جانتے ہیں۔کیا آپ کے لیے یہ کافی نہیں کہ آپ چار میں سے ایک ہیں۔چنانچہ انہوں نے ارادہ بدل دیا اور کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں اور انہوں نے اپنے گدھے کی زین کھولنے کا حکم دیا اور وہ زمین کھول دی گئی۔یہ بھی صحیح مسلم کی روایت ہے۔138 ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ ! مجھے قابل تعریف بنا دے اور مجھے شرف اور بزرگی والا بنا دے۔شرف اور بزرگی بغیر اچھے کاموں کے نہیں ہو سکتی۔اچھے کام نہ ہوں تو پھر شرف بھی نہیں مل سکتا اور بزرگی بھی نہیں ہو سکتی اور اچھے کام بغیر مال کے نہیں ہو سکتے۔اے اللہ ! تھوڑا میرے لیے مناسب نہیں اور نہ ہی میں اس میں درست رہوں گا۔1139 تمہارا سردار بہت غیور ہے ، میں اس سے زیادہ غیرت والا ہوں اور اللہ مجھ سے بھی زیادہ بہر حال یہ دعا کرنے کا ان کا اپنا ایک انداز تھا۔صحیح مسلم کی ایک روایت ہے۔حضرت ابوہریرہ اللہ ! اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ شخص کو غلط حالت میں پاؤں تو اس کو ہاتھ نہ لگاؤں یہاں تک کہ میں چار گواہ لے آؤں۔رسول اللہ صلی الم نے فرمایا ہاں۔اس پر انہوں نے کہا کہ ہر گز نہیں۔اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے اگر میں ہوں تو اس سے پہلے ہی جلدی سے تلوار کے ساتھ اس کا فیصلہ کر دوں۔کوئی گواہی تلاش نہیں کروں گا بلکہ قتل کر دوں گا۔رسول اللہ صلی الل ولم نے فرمایا لوگوں سے کہا کہ سنو ! تمہارا سر دار کیا کہتا ہے۔وہ بہت غیور ہے اور فرمایا کہ میں اس سے زیادہ غیرت والا ہوں اور پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے بھی زیادہ غیرت والا ہے۔کہ کے بر دی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ حضرت سعد بن عبادہ کے ہر سة 1140