اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 470 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 470

تاب بدر جلد 4 الله سة 470 خزرج کے محلے میں تھے۔یہ واقعہ غزوہ بدر سے پہلے کا ہے۔حضرت اسامہ کہتے تھے کہ چلتے چلتے آپ ایک ایسی مجلس کے پاس سے گزرے جس میں عبد اللہ بن اُبی بن سلول تھا اور یہ اس وقت کا واقعہ ہے کہ عبد اللہ بن ابی بن سلول جو تھا ابھی مسلمان نہیں ہوا تھا اور یہ وہی واقعہ ہے جس میں عبد اللہ بن ابی بن سلول نے آنحضرت صلی علیہ کم سے بد تمیزی کا رویہ دکھایا تھا۔بہر حال جب آپ سواری کے جانور پر بیٹھے ہوئے جارہے تھے تو اس کی گرد، مٹی اڑی اور اس مجلس پر پڑی۔وہ لوگ کنارے سڑک کے بیٹھے ہوں گے تو عبد اللہ بن ابی بن سلول نے اپنی چادر سے اپنی ناک کو ڈھانکا اور کہنے لگا کہ ہم پر گر دنہ اڑاؤ۔رسول اللہ صلی علیم نے ان کو السلام علیکم کہا اور ٹھہر گئے۔جب اس نے یہ بات کی ہے تو آنحضرت صلی ا ہم نے اپنی سواری کو کھڑا کر لیا۔ٹھہر گئے اور السلام علیکم کہا اور گدھے سے اترے۔آپ نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا اور انہیں قرآن پڑھ کر سنایا۔عبد اللہ بن اُبی بن سلول نے کہا اے مرد! جو بات تم کہتے ہو اس سے اچھی کوئی بات نہیں۔اگر یہ سچ ہے تو ہماری مجلس میں آکر اس سے تکلیف نہ دیا کرو۔ہماری مجلس میں آنے کی، یہ باتیں کہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔مختصر پہلے بھی ایک دفعہ میں یہ بیان کر چکا ہوں۔اپنے ٹھکانے پر ہی واپس جاؤ۔پھر جو تمہارے پاس آئے اسے بیان کرو۔حضرت عبد اللہ بن رواحہ بھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے ، مسلمان ہو چکے تھے ، صحابی تھے انہوں نے یہ سن کر کہا کہ نہیں یار سول اللہ ! آپ ہماری ان مجلسوں میں ہی آکر ہمیں پڑھ کر سنایا کریں۔ہمیں تو یہ بات پسند ہے۔اس پر مسلمان، مشرک اور یہودی ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے لگے۔قریب تھا کہ ایک دوسرے پر حملہ کرتے مگر نبی کریم صلی الیکم نے ان کا جوش دبایا۔آخر وہ رک گئے۔اس کے بعد پھر نبی کریم صلی علیم اپنے جانور پر سوار ہو کر چلے گئے یہاں تک کہ حضرت سعد بن عبادہ کے پاس آئے۔نبی کریم صلی العلیم نے ان سے کہا سعد ! کیا تم نے سنا جو ابو حباب نے کہا۔آپ کی مراد عبد اللہ بن اُبی بن سلول سے تھی۔آپ صلی الی یکم نے فرمایا کہ اس نے مجھے یوں یوں کہا ہے۔حضرت سعد بن عبادہ نے کہا یار سول اللہ ! آپ اس کو معاف کر دیں اور اس سے در گزر کیجیے۔اس ذات کی قسم ہے جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی ہے۔اللہ وہ حق اب یہاں لے آیا ہے جس کو اس نے آپ پر نازل کیا ہے۔اس بستی والوں نے تو یہ فیصلہ کیا تھا کہ اس کو یعنی عبد اللہ بن ابی بن سلول کو سر داری کا تاج پہنا کر عمامہ اس کے سر پر باند ھیں۔جب اللہ تعالیٰ نے اس حق کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے یہ منظور نہ کیا تو وہ حسد کی آگ میں جل گیا۔اس لیے اس نے وہ کچھ کیا جو آپ نے دیکھا یعنی وہ سر دار بننے والا تھا اور آپ کے آنے سے اس کی سرداری جاتی رہی۔اس وجہ سے اس کو حسد ہے۔آپ سے جلن ہے اور اس نے یہ سب کچھ کہا ہے۔یہ سن کر نبی کریم صلی العلیم نے اس سے در گزر کیا اور نبی صلی علیہم اور آپ کے صحابہ مشرکوں اور اہل کتاب سے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا در گزر کیا کرتے تھے اور ان کی ایذاد ہی پر صبر کیا کرتے تھے۔اللہ عز و جل نے فرمایا ہے لَتُبُلُونَ فِي أَمْوَالِكُمْ وَ انْفُسِكُمْ وَلَتَسْمَعُنَ مِنَ الَّذِينَ أوتُوا الْكِتَبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا ۖ وَ إِنْ تَصْبِرُوا وَ تَتَّقُوا فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الأمور ( آل عمران: 187) کہ تم ضرور اپنے اموال اور اپنی جانوں کے معاملے میں آزمائے جاؤ گے اور تم ضرور