اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 455 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 455

اصحاب بدر جلد 4 455 انسان سمجھتا ہو کہ میں مر رہا ہوں کیا کیا خیالات اس کے دل میں آتے ہیں۔وہ سوچتا ہے میری بیوی کا کیا حال ہو گا۔میرے بچوں کو کون پوچھے گا۔مگر اس صحابی نے کوئی ایسا پیغام نہ دیا۔صرف یہی کہا کہ ہم آنحضرت صلی ایم کی حفاظت کرتے ہوئے اس دنیا سے جاتے ہیں تم بھی اسی راستہ سے ہمارے پیچھے آ جاؤ۔“ سب سے بڑا کام یہی ہے کہ آنحضرت صلی علیکم کی حفاظت کرنی ہے۔لکھتے ہیں کہ ”ان لوگوں کے اندر یہی ایمان کی قوت تھی جس سے انہوں نے دنیا کو تہ و بالا کر دیا اور قیصر و کسریٰ کی سلطنتوں کے تختے الٹ دیے۔قیصر روم حیران تھا کہ یہ کون لوگ ہیں۔کسری نے اپنے سپہ سالار کو لکھا کہ اگر تم ان عربوں کو بھی شکست نہیں دے سکتے تو پھر واپس آجاؤ اور گھر میں چوڑیاں پہن کر بیٹھو۔“ اس نے اپنے جرنیل کو یہ کہا کہ ” یہ گو ہیں کھانے والے لوگ ہیں ان کو بھی تم نہیں روک سکتے۔“بالکل معمولی لوگ ہیں، کھانا بھی ان کو نہیں ملتا۔گوہ کھاتے ہیں یہ لوگ۔” اس نے جواب دیا یہ تو آدمی معلوم ہی نہیں ہوتے۔یہ تو کوئی بلا ہیں۔یہ تلواروں اور نیزوں کے اوپر سے کو دتے ہوئے آتے ہیں۔1074" ان میں ایسا جوش و جذ بہ ہے۔ان کو ہم کس طرح شکست دے سکتے ہیں۔حضرت ابو بکڑ نے فرمایا یہ اس شخص کی بیٹی ہے جو مجھ سے اور تم سے بہتر تھا ایک مرتبہ حضرت سعد بن ربیع کی صاحبزادی ام سعد حضرت ابو بکڑ کے پاس آئیں تو انہوں نے اس کے لیے اپنا کپڑا بچھا دیا حضرت عمر آئے تو انہوں نے پوچھا یہ کون ہے ؟ حضرت ابو بکر نے فرمایا یہ اس شخص کی بیٹی ہے جو مجھ سے اور تم سے بہتر تھا۔حضرت عمر نے کہا اے خلیفہ رسول صلی یک وہ کون ہے ؟ حضرت ابو بکر نے فرمایا کہ وہ شخص جس کی وفات رسول اللہ صلی للی نیلم کے زمانے میں ہوئی اور اس نے جنت میں اپنا ٹھکانا بنالیا جبکہ میں اور تم باقی رہ گئے۔وراثت کے احکام کا نزول 1075 حضرت جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن ربیع کی بیوی اپنی دونوں بیٹیوں کے ہمراہ آنحضرت صلی علیم کے پاس آئیں اور عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ دونوں سعد بن ربیع کی بیٹیاں ہیں جو آپ صلی علیہ کم کے ساتھ لڑتے ہوئے احد کے دن شہید ہو گئے تھے۔اور ان کے چچانے ان دونوں کا مال لے لیا ہے یعنی حضرت سعد کی جائیداد جو تھی ان کے چانے لے لی ہے۔انہیں کچھ نہیں ملا اور ان کے لیے مال نہیں چھوڑا اور ان دونوں کا نکاح بھی نہیں ہو سکتا جب تک ان کے پاس مال نہ ہو۔آپ صلی علیہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں فیصلہ فرمائے گا۔اس پر میراث کے احکام پر آیت نازل ہوئی۔پھر رسول اللہ صلی علیم نے دونوں کے چچا کو بلوایا اور فرمایا کہ سعد کی بیٹیوں کو سعد کے مال الله س مشتمل کا تیسر احصہ دو اور ان دونوں کی والدہ کو آٹھواں حصہ دو اور جو بچ جائے وہ تمہارا ہے۔1076 اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے اس بارے میں کچھ تفصیل حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرت