اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 450
ب بدر جلد 4 450 کہ میری تلوار اس کا خاتمہ کر دے گی کہ اپنے پیچھے سے مجھے تلوار کی چمک محسوس ہوئی۔کہتے ہیں دوسرا وار بھی کرنا تھا کہ اتنے میں مجھے پیچھے سے تلوار کی چمک محسوس ہوئی۔میں نے اپنا سر فوار انیچے کر لیا کہ پیچھے سے کوئی تلوار آرہی ہے اور وہ تلوار اس زور سے دشمن پر پڑی کہ اس کا سر مع خُود کے تن سے جدا ہو گیا۔حضرت علی کہتے ہیں کہ جب میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ حضرت حمزہ تھے۔وہ اس کو کہہ رہے تھے کہ میرے وار کو سنبھالو کہ میں ابن عبد المطلب ہوں۔1064 جنگ بدر میں مسلمانوں کے پاس کتنے اونٹ اور گھوڑے تھے اس روایت سے کہتے ہیں ناں کہ فلاں نے فلاں کو قتل کیا تو یہی لگتا ہے کہ طعیمہ بن عدی نے حضرت سعد کو شہید کیا تھا اور پھر وہ وہیں مارا گیا۔ایک روایت کے مطابق جنگ بدر میں رسول اللہ صلی للی کی کے ساتھ دو گھوڑے تھے۔ایک گھوڑے پر حضرت مصعب بن عمیر اور دوسرے پر حضرت سعد بن خَيْقه سوار تھے۔حضرت زبیر بن العوام اور حضرت مقداد بن اسود بھی باری باری ان پر سوار ہوئے۔1065 جنگ بدر میں مسلمانوں کے پاس کتنے گھوڑے تھے اس کے متعلق تاریخوں میں مختلف روایات ملتی ہیں۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا خیال ہے کہ غزوہ بدر میں مسلمانوں کے پاس ستر اونٹ اور دو 1066 گھوڑے تھے۔لیکن یہ بھی بعض دوسری کتابوں میں لکھا ہے کہ گھوڑوں کی تعداد تین اور پانچ بھی بیان ہوئی ہے۔1067 بہر حال جو بھی ساز و سامان اور گھوڑے اور اونٹ تھے یا ان کی تعداد تھی اس کی کافروں کے ساز و سامان کے ساتھ اور گھوڑوں کی تعداد سے تو کوئی نسبت ہی نہیں تھی۔لیکن جب مسلمانوں پر حملہ ہوا، جنگ ٹھونسی گئی اور کافر اپنے زعم میں اس لیے آئے کہ اب اسلام کو ختم کر دیں گے تو پھر ان مومنین نے اپنے سامان کی طرف نہیں دیکھا، گھوڑوں کی طرف نہیں دیکھا بلکہ خدا تعالیٰ کی خاطر ایک قربانی کرنے کی تڑپ تھی جیسا کہ ان کے جواب سے بھی ظاہر ہو رہا ہے کہ یہاں کسی اور دنیاوی چیز کی خواہش کا سوال نہیں ہے یہاں تو اللہ تعالیٰ کی خاطر قربانی کا سوال ہے۔اس لیے بیٹے نے باپ کو کہا کہ میں یہاں تمہیں ترجیح نہیں دے سکتا۔بہر حال ایک تڑپ تھی جسے اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا اور پھر فتح بھی عطا فرمائی۔اللہ تعالیٰ ہر آن ان صحابہ کے درجات بلند فرماتا رہے۔18 1068