اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 449
اصحاب بدر جلد 4 449 بدر کے لئے باپ بیٹے کا جوش و خروش اور قرعہ ڈالنا سلیمان بن ابان روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی علی کیم بدر کے لیے نکلے تو حضرت سعد بن خَيْقمه " اور آپ کے والد دونوں نے آپ کے ساتھ جانے کا ارادہ کیا اور نبی صلی علیکم کے سامنے یہ بات عرض کی گئی کہ دونوں باپ بیٹا گھر سے نکل رہے ہیں۔اس پر آپ نے ہدایت فرمائی کہ ان دونوں میں سے صرف ایک جاسکتا ہے۔وہ دونوں قرعہ اندازی کر لیں۔حضرت خَيْقمه " نے اپنے بیٹے سعد سے کہا کہ ہم میں سے ایک ہی جا سکتا ہے۔تم ایسا کرو کہ عورتوں کے پاس وہاں نگرانی کے لیے، حفاظت کے لیے رک جاؤ۔حضرت سعد نے کہا اگر جنت کے علاوہ کوئی اور معاملہ ہو تاتو میں ضرور آپ کو ترجیح دیتا لیکن میں خود شہادت کا طلبگار ہوں۔اس پر دونوں نے قرعہ اندازی کی تو قرعہ حضرت سعد کے نام نکلا۔آپ رسول اللہ صلی علیم کے ساتھ بدر کے لیے نکلے اور جنگ بدر میں شہید ہو گئے۔2 آپ کو عمر و بن عبدود نے شہید کیا اور ایک قول کے مطابق طعیمہ بن عدی نے آپ کو شہید کیا تھا۔طعیمہ کو حضرت حمزہ نے جنگ بدر میں اور عمر و بن عبدود کو حضرت علی نے جنگ خندق میں قتل کیا تھا۔1063 حضرت سعد کی شہادت اور قاتل کا واصل جہنم ہونا 1062 حضرت علی فرماتے ہیں کہ بدر کے روز جب دن چڑھ گیا اور مسلمانوں اور (ایک روایت یہ ہے) مسلمانوں اور کفار کی صفیں باہم مل گئیں یعنی جنگ شروع ہو گئی تو میں ایک آدمی کے تعاقب میں نکلا تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک ریت کے ٹیلے پر حضرت سعد بن خَيْشَہ ایک مشرک سے لڑ رہے ہیں یہاں تک کہ اس مشرک نے حضرت سعد کو شہید کر دیا۔وہ مشرک لوہے کی زرہ میں ملبوس گھوڑے پر سوار تھا پھر وہ گھوڑے سے نیچے اترا۔اس نے مجھے پہچان لیا تھا لیکن میں اسے نہ پہچان سکا۔اس نے مجھے لڑائی کے لیے للکارا۔میں اس کی طرف بڑھا۔جب وہ آگے بڑھ کر مجھ پر حملہ کرنے لگا تو میں نیچے کو پیچھے ہٹا تا کہ بلندی سے میرے قریب آجائے۔زیادہ اونچا نہ ہو۔لڑائی کا اصول ہے ، نیچے آئے اور قریب آجائے کیونکہ مجھے یہ ناگوار گزرا کہ وہ بلندی سے مجھ پر تلوار سے وار کرے۔جب میں اس طرح ایک قدم پیچھے ہٹ رہا تھا تب وہ بولا کہ اے ابن ابی طالب ! کیا بھاگ رہے ہو ؟ تو میں نے اسے کہا کہ قَرِيبٌ مَفَرُّ ابنِ الشَّتَرَاء کہ نے الشقراء کے بیٹے کا بھاگ جانا قریب ہے یعنی کہ نا ممکن ہے۔یہ عربوں میں ایک محاورہ بن گیا تھا کیونکہ کہتے ہیں۔تاریخ میں لکھا ہے کہ ایک ڈاکو تھا جو لو گوں کو لوٹنے کے لیے آتا تھا۔لوگ اس پر حملے کرتے تو بھاگ جاتا لیکن اس کا بھا گنا عارضی ہوتا تھا۔پھر ہو جلدی موقع یا کر دوبارہ حملہ کر دیتا تھا۔پس یہ بطور ضرب المثل استعمال ہونے لگا تھا کہ داؤ پیچ کے لیے پیچھے ہٹو اور پھر حملہ کرو۔حضرت علی کہتے ہیں کہ جب میرے قدم جم گئے اور وہ بھی میرے قریب پہنچ گیا تو اس نے اپنی تلوار سے مجھ پر حملہ کیا جسے میں نے اپنی ڈھال پر لیا اور اس کے کندھے پر اس زور سے وار کیا کہ میری تلوار اس کی زرہ کو چیرتی ہوئی نکل گئی۔مجھے یقین تھا