اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 446
تاب بدر جلد 4 446 میں تمہارے دین میں کبھی داخل نہیں ہوں گی اور اپنے رشتہ داروں کو اشارہ کیا کہ مصعب کو پکڑ کر قید کرلیں مگر وہ بھاگ گئے۔بہر حال آنحضرت صلی للی و کم کم مصعب " سے انصار کی آمد کی اطلاع مل چکی تھی اور ان میں سے بعض لوگ آپ سے انفرادی طور پر ملاقات بھی کر چکے تھے مگر چونکہ اس موقع پر ایک اجتماعی اور خلوت کی ملاقات کی ضرورت تھی یعنی علیحدہ ملاقات ہونی چاہیے تھے اس لیے مراسم حج کے بعد ماہ ذی الحجہ کی وسطی تاریخ مقرر کی گئی کہ اس دن نصف شب کے قریب یہ سب لوگ گزشتہ سال والی گھاٹی میں آپ صلی للہ ہم کو آکر ملیں تاکہ اطمینان اور یکسوئی کے ساتھ میں بات چیت ہو سکے اور آپ صلی علیم نے انصار کو تاکید فرمائی کہ اکٹھے نہ آئیں بلکہ ایک ایک دو دو کر کے آئیں دشمن کی نظر پڑ سکتی ہے اور وقت مقررہ پر گھائی میں پہنچ جائیں اور اگر کوئی سویا ہوا ہے تو سوتے کو نہ جگائیں اور غیر حاضر کا انتظار نہ کریں۔چنانچہ جب مقررہ تاریخ آئی تو رات کے وقت جبکہ ایک تہائی رات جاچکی تھی آنحضرت صلی الم اکیلے گھر سے نکلے اور راستے میں اپنے چچا عباس کو ساتھ لیا جو ابھی تک اسلام نہیں لائے تھے، مشرک تھے مگر آپ سے محبت رکھتے تھے اور خاندان باشم کے رئیس تھے۔اور پھر دونوں مل کر اس گھائی میں پہنچے۔ابھی زیادہ دیر نہ ہوئی تھی کہ انصار بھی ایک ایک دو دو کر کے آپہنچے۔یہ ستر اشخاص تھے اور اوس اور خزرج دونوں قبیلوں سے تعلق رکھنے والے تھے۔سب سے پہلے عباس نے گفتگو شروع کی یعنی حضرت عباس جو ابھی اسلام نہیں لائے تھے کہ اے خزرج کے گروہ ! محمد صلی تمیم اپنے خاندان میں ایک معزز اور محبوب ہے اور خاندان آج تک اس کی حفاظت کا ضامن رہا ہے اور ہر خطرے کے وقت میں اس کے لیے سینہ سپر ہوا ہے۔ہے مگر اب محمد کا ارادہ اپنا وطن چھوڑ کر تمہارے پاس چلے جانے کا ہے۔سو اگر تم اسے اپنے پاس لے جانے کی خواہش رکھتے ہو تو تمہیں اس کی ہر طرح حفاظت کرنی ہو گی اور ہر دشمن کے سامنے سینہ سپر ہونا پڑے گا۔اگر تم اس کے لیے تیار ہو تو بہتر ورنہ ابھی سے صاف صاف جواب دے دو کیونکہ صاف صاف بات اچھی ہوتی ہے۔براء بن مغرُور جو انصار کے قبیلے کے ایک معمر اور با اثر بزرگ تھے انہوں نے کہا کہ عباس ہم نے تمہاری بات سن لی ہے مگر ہم چاہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیکم خود بھی اپنی زبان مبارک سے کچھ فرما دیں اور جو ذمہ داری ہم پر ڈالنا چاہتے ہیں وہ بیان فرمائیں۔اس پر آنحضرت صلی علیم نے قرآن شریف کی چند آیات تلاوت فرمائیں اور پھر ایک مختصر سی تقریر میں اسلام کی تعلیم بیان فرمائی اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ میں اپنے لیے صرف اتنا چاہتا ہوں کہ جس طرح تم اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کی حفاظت کرتے ہو اسی طرح اگر ضرورت پیش آئے تو میرے ساتھ بھی معاملہ کرو۔جب آپ صلی علیکم تقریر ختم کر چکے براء بن مغرور نے عرب کے دستور کے مطابق آپ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں نے کر کہا یا رسول اللہ ! ہمیں اس خدا کی قسم ہے جس نے آپ کو حق اور صداقت کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے کہ ہم اپنی جانوں کی طرح آپ کی حفاظت کریں گے۔ہم لوگ تلواروں کے سائے میں پہلے ہیں اور بات یہ کہہ ہی رہے تھے ، ابھی بات ختم نہیں ہوئی تھی کہ ابو الْهَيْقَمُ بن تَيْهَان ایک اور شخص وہاں بیٹھا تھا، اس نے ان کی بات کاٹ کر کہا کہ یا رسول اللہ ! ( یہ بھی مسلمان ہو گئے تھے ) یثرب کے یہود کے ساتھ ہمارے رض