اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 433 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 433

اصحاب بدر جلد 4 433 ڈالی ہوئی تھی مگر میں اس کے حملے کے انداز اور قد کو پہچانتا ہوں۔میں اس شخص کو تلاش کروں گا جس نے اسے قید سے نکالا ہے اور اسے سخت سزا دوں گا یعنی جس نے اس کو اس قید سے باہر نکالا اس کی زنجیریں کھولیں اس کو سخت سزا دوں گا۔1025 سلة جب حضرت سعد نے یہ الفاظ کہے تو ان کی بیوی کو غصہ آگیا اور اس نے کہا کہ تجھے شرم نہیں آتی کہ آپ تو درخت پر عرشہ بنا کر بیٹھا ہوا ہے اور اس شخص کو تو نے قید کیا ہوا ہے جو دشمن کی فوج میں بے دریغ گھس جاتا ہے اور اپنی جان کی پروا نہیں کرتا۔میں نے اس شخص کو قید سے چھڑایا تھا تم جو چاہو کر لو۔میں نے اسے کھلوایا تھا اب جو تم نے کرنا ہے کر لو۔بہر حال یہ تفصیل حضرت مصلح موعودؓ نے اپنی ایک لجنہ کی تقریر میں بیان فرمائی تھی اور یہ بیان فرما کے فرمایا تھا کہ غرض عورتوں نے اسلام میں بڑے بڑے کام کیسے ہیں۔آپ نے یہ فرمایا کہ پیس آج بھی احمدی عورتوں کو ان مثالوں کو سامنے رکھنا چاہیے۔25 پھر عورتوں کی قربانی کا حضرت سعد کے حوالے سے ہی مزید واقعہ سنیں۔انصار کے قبیلہ بنو کی مشہور شاعرہ اور صحابیہ حضرت خنساء نے اس جنگ میں اپنے چار بیٹے اللہ کی راہ میں قربان کیے۔حضرت خنساء کے خاوند اور بھائی ان کی جوانی میں فوت ہو گئے تھے۔حضرت خنساء نے بڑی محنت سے اپنے بچوں کو پالا تھا۔قادسیہ کی جنگ کے آخری دن صبح جنگ سے پہلے حضرت خنساء نے اپنے بیٹوں سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ اے میرے بیٹو! تم نے اپنی خوشی سے اسلام قبول کیا ہے اور اپنی مرضی سے ہجرت کی ہے۔اس ذات کی قسم جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں !میں نے تمہارے حسب و نسب میں کوئی عار نہیں آنے دی۔یادر کھو کہ آخرت کا گھر اس فانی دنیا سے بہتر ہے۔بیٹو !ڈٹ جاؤ اور ثابت قدم رہو اور کندھے سے کندھا ملا کر لڑو۔خدا کا تقویٰ اختیار کرو۔جب تم دیکھو گے کہ گھمسان کی لڑائی ہو رہی ہے اور اس کا تندور بھڑک اٹھا ہے اور شہ سواروں نے اپنے سینے تان لیے ہیں تو تم اپنی آخرت کو سنوارنے کے لیے اس میں کو دجاؤ۔حضرت خنساء کے بیٹوں نے ان کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے اپنے گھوڑوں کی باگیں اٹھائیں اور رجزیہ شعر پڑھتے ہوئے میدانِ جنگ میں کود گئے اور بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔اس روز شام سے پہلے قادسیہ پر اسلامی پرچم لہرا رہا تھا۔حضرت خنسان کو بتایا گیا کہ تمہارے چاروں بیٹے شہید ہو گئے ہیں تو انہوں نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ اللہ نے انہیں شہادت سے سر فراز کیا۔میرے لیے کم فخر نہیں کہ وہ راہ حق میں قربان ہو گئے۔مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی رحمت کے سائے میں ضرور جمع رکھے گا۔وہ جگہ جہاں حضرت ابراہیم کو نمرود نے قید کیا تھا قادسیہ کو فتح کرنے کے بعد اسلامی لشکر نے بابل کو فتح کیا۔بابل موجودہ عراق کا قدیم شہر تھا جس کا ذکر ہاروت اور ماروت کے سلسلے میں قرآن نے بھی کیا ہے اور یہ وہیں تھا جہاں آج کوفہ ہے۔شہروں کا جو تعارف ہے اس میں اس کا یہ تعارف لکھیا ہے۔اور پھر آگے یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ فتح کر کے کوئی نام کے تاریخی شہر کے مقام پر پہنچے یہ وہ جگہ تھی جہاں حضرت ابراہیم کو نمرود نے قید کیا تھا۔قید خانے کی جگہ