اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 389
ناب بدر جلد 4 389 فہمی سے جو کچھ ہوا، بعض قبیلے شامل تھے اور ہو سکتا ہے کہ ان میں سے کچھ جان بوجھ کے بھی شامل ہوئے ہوں لیکن آنحضرت صلی للی یم نے سب کو چھوڑ دیا اور ان کا مال و متاع بھی ان کو واپس کر دیا۔سریہ وادی القریٰ پھر حضرت زید کے ایک اور سر یہ جو رجب 6 ہجری میں وادی القریٰ کی طرف بھیجا گیا تھا اس کا ذکر بھی ملتا ہے۔"سر یہ چشمی کے قریباً ایک ماہ بعد آنحضرت صلی علی کلم نے پھر زید بن حارثہ کو وادی القریٰ کی طرف روانہ فرمایا۔جب زید کا دستہ وادی القریٰ میں پہنچا تو بنو فزارہ کے لوگ ان کے مقابلہ کے لیے تیار تھے۔چنانچہ اس معرکے میں متعدد مسلمان شہید ہوئے اور خود زید کو بھی سخت زخم آئے مگر خدا نے اپنے فضل سے بچا لیا۔" حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ وادی الھویٰ جس کا اس سر یہ میں ذکر ہوا ہے وہ مدینہ سے شمال کی طرف شامی راستہ پر ایک آباد وادی تھی جس میں بہت سی بستیاں آباد تھیں اور اسی واسطے اس کا نام وادی القری پڑ گیا تھا۔یعنی بستیوں والی وادی۔"898 سریہ موئتہ اور امیر لشکر زید بن حارثہ سر یہ مؤتہ 8 ہجری میں ہوا۔مُؤتَه بلقاء کے قریب ملک شام میں ایک مقام ہے۔اس سر پہ کے اسباب بیان کرتے ہوئے ، وجوہات بیان کرتے ہوئے علامہ ابن سعد لکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیم نے حارث بن عمیر کو قاصد بنا کر شاہ بصری کے پاس خط دے کر بھیجا۔جب وہ موسہ کے مقام پر اترے تو انہیں شرحبيل بن عمر و غَسّاني نے شہید کر دیا۔حضرت حارث بن عمیر کے علاوہ رسول اللہ صلی علیم کا اور کوئی قاصد شہید نہیں کیا گیا۔بہر حال یہ سانحہ آنحضرت صلی للی کم پر بہت گراں گزرا۔آپ صلی علیم نے لوگوں کو بلایا تو وہ تیزی سے حجرف مقام پر جمع ہو گئے جن کی تعداد تین ہزار تھی۔آنحضرت صلی اللہ ہم نے فرمایا کہ سب کے امیر زید بن حارثہ نہیں اور ایک سفید جھنڈا تیار کر کے حضرت زید کو دیتے ہوئے یہ نصیحت کی کہ حارث بن عمیر جہاں شہید کیے گئے ہیں وہاں پہنچ کر لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں۔اگر وہ قبول کر لیں تو ٹھیک ہے نہیں تو ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے مددمانگیں اور ان سے جنگ کریں۔سریہ مؤته جمادی الاول سن 8 ہجری میں ہوا۔899 حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الین نے سر یہ موتہ کے لیے حضرت زید بن حارثہ کو امیر مقرر فرمایا پھر رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا کہ اگر زید شہید ہو جائیں تو جعفر امیر ہوں گے اور اگر جعفر" بھی شہید ہو جائیں تو عبد اللہ بن رواحہ تمہارے امیر ہوں گے۔اور اس لشکر کو جیش الأمراء بھی کہتے ہیں۔00 صحیح بخاری میں بھی اس کا ذکر ہے مسند احمد بن حنبل میں بھی۔روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ حضرت جعفر نے رسول اللہ صلی علی نام سے عرض کیا کہ یار سول اللہ! مجھے کبھی یہ خیال نہیں آیا تھا کہ آپ زید کو مجھے پر امیر فرمائیں گے۔آپ صلی الی یکم نے فرمایا کہ اس بات کو چھوڑو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ بہتر کیا ہے۔" 901