اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 390 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 390

اصحاب بدر جلد 4 390 حضرت مصلح موعود سریہ موتہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں، گو اس واقعہ کا کچھ تھوڑا ساذ کر میں چند ہفتے پہلے یا چند مہینے پہلے کے خطبوں میں بھی کر چکا ہوں۔بہر حال دوبارہ کیونکہ حضرت زید کے حوالے سے بات ہو رہی ہے تو پھر ذکر کر دیتا ہوں۔حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ اس سریہ کا افسر آنحضرت صلی علی یکم نے زید کو مقرر کیا تھا مگر ساتھ ہی یہ ارشاد فرمایا تھا کہ میں اس وقت زید کو لشکر کا سر دار بناتا ہوں۔اگر زید لڑائی میں مارے جائیں تو ان کی جگہ جعفر لشکر کی کمان کریں۔اگر وہ بھی مارے جائیں تو عبد اللہ بن رواحہ کمان کریں اور اگر وہ بھی مارے جائیں تو پھر جس پر مسلمان متفق ہوں وہ فوج کی کمان کرے۔جس وقت آپ نے یہ ارشاد فرمایا اس وقت ایک یہودی بھی آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔اس نے کہا کہ میں آپ کو نبی تو نہیں مانتا لیکن اگر آپ سچے بھی ہوں تو ان تینوں میں سے کوئی بھی زندہ بچ کر نہیں آئے گا کیونکہ نبی کے منہ سے جو بات نکلی ہے وہ پوری ہو کر رہتی ہے۔گذشتہ چند مہینے پہلے جو ذکر ہوا تھا اس میں غالباً یہ ذکر تھا کہ یہودی حضرت زید کے پاس گیا اور ان کو یہ کہا۔تو بہر حال حضرت مصلح موعودؓ نے اس روایت کو اس طرح درج کیا ہے کہ وہ یہودی حضرت زید کے پاس گیا اور انہیں بتایا کہ اگر تمہار ار سول سچا ہے تو تم زندہ واپس نہیں آؤ گے۔حضرت زید نے فرمایا کہ میں زندہ آؤں گا یا نہیں آؤں گا اس کو تو اللہ ہی جانتا ہے مگر ہمارا رسول صلی یکم ضرور سچار سول ہے۔اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ یہ واقعہ بالکل اسی طرح پورا ہوا۔حضرت زید شہید ہوئے۔ان کے بعد حضرت جعفر نے لشکر کی کمان سنبھالی وہ بھی شہید ہو گئے۔اس کے بعد حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے لکی نے لشکر کی کمان سنبھالی وہ بھی شہید ہوئے اور قریب تھا کہ لشکر میں انتشار پھیل جاتا کہ حضرت خالد بن ولید نے مسلمانوں کے کہنے سے جھنڈے کو اپنے ہاتھ میں پکڑا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعہ مسلمانوں کو فتح دی اور وہ خیریت سے لشکر کو واپس لے آئے۔902 زید نے جھنڈ الیا اور وہ شہید ہو گئے ! بخاری میں اس واقعہ کی روایت اس طرح ملتی ہے۔حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی الم نے فرما یا زید نے جھنڈ الیا اور وہ شہید ہوئے۔پھر جعفر نے اسے پکڑا اور وہ بھی شہید ہو گئے۔پھر عبد اللہ بن رواحہ نے جھنڈے کو پکڑا اور وہ بھی شہید ہو گئے اور یہ خبر دیتے ہوئے آپ صلی علیہ کم کی آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے۔فرمایا کہ پھر جھنڈے کو خالد بن ولید نے بغیر سر دار ہونے کے پکڑا اور انہیں فتح حاصل ہوئی۔3 جب رسول اللہ صلی علیکم تک حضرت زید بن حارثہ ، حضرت جعفر اور حضرت عبد اللہ بن رواحہ کی شہادت کی خبر پہنچی تو آپ صلی علی کم ان کا حال بیان کرنے کے لیے کھڑے ہوئے۔حضرت زید کے ذکر سے آغاز فرمایا۔آپ نے فرمایا اے اللہ ! زید کی مغفرت فرما۔اے اللہ ! زید کی مغفرت فرما۔اے اللہ ! زید کی مغفرت فرما۔پھر آپ نے فرمایا کہ اے اللہ ! جعفر اور عبد اللہ بن رواحہ کی مغفرت فرما۔4 903 904