اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 375 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 375

اصحاب بدر جلد 4 375 پس اذن نہ لینے والی روایت کا قطعاً کوئی تعلق اس سوال سے نہیں ہے کہ آپ کے اس نکاح کی ظاہری رسم ادا کی گئی یا نہیں۔اور حق یہی ہے جیسا کہ ابن ہشام کی روایت میں تصریح کی گئی ہے کہ باوجود خدائی حکم کے اس نکاح کی باقاعدہ رسم ادا کی گئی تھی۔اور عقل بھی یہی چاہتی ہے کہ ایسا ہو ا ہو کیونکہ اول تو عام قاعدے میں استثنا کی کوئی وجہ نہیں تھی اور دوسرے جب اس نکاح میں ایک رسم کا توڑنا اور اس کے اثر کو زائل کرنا مقصود تھا۔یہ پہلے رسم تھی اور بڑی پکی رسم تھی کہ متبنی کی بیوی سے نکاح نہیں ہو سکتا اور اس رسم کو توڑنا مقصد تھا۔تو اس بات کی پھر بدرجہ اولی ضرورت تھی، بہت زیادہ ضرورت تھی کہ یہ نکاح بڑے اعلان کے ساتھ کیا جاتا اور بڑی شہادتوں کے سامنے کیا جاتا تا کہ دنیا کو پتا لگتا کہ یہ رسم آج ختم ہو رہی ہے۔حضرت زید کی زندگی کے واقعات کے تعلق میں حضرت زینب کے بارے میں اور آنحضرت صلی علیکم کی شادی کے بارے میں بھی میں نے کچھ تفصیل سے یہ ذکر اس لیے کیا ہے کہ آپ صلی علی یکم سے حضرت زینب کی شادی کے بارے میں آج کل بھی معترضین سوال اور اعتراض کرتے ہیں اس لیے اس بارے میں 878 879 ہمیں کچھ تفصیلی علم بھی ہونا چاہیے۔حضرت زینب کی فضیلت و پرہیز گاری حضرت زینب بنت جحش کی عمر شادی کے وقت 35 سال کی تھی اور عرب کے حالات کے لحاظ سے یہ عمر ایسی تھی جسے گویا ادھیڑ عمر، بڑی عمر کہنا چاہیے۔حضرت زینب ایک نہایت متقی اور پرہیز گار اور مخیر خاتون تھیں۔چنانچہ باوجود اس کے کہ آنحضرت صلی علیم کی تمام بیویوں میں صرف زینب ہی وہ بیوی تھیں جو حضرت عائشہ کا مقابلہ کرتی تھیں اور ان کی ہمسری کا دم بھرتی تھیں۔حضرت عائشہ ان کے ذاتی تقویٰ اور طہارت کی بہت مداح تھیں اور اکثر کہا کرتی تھیں کہ میں نے زینب سے زیادہ نیک عورت نہیں دیکھی اور یہ کہ وہ بہت متقی، بہت راست گو، بہت صلہ رحمی کرنے والی، بہت صدقہ و خیرات کرنے والی اور نیکی اور تقرب الہی کے اعمال میں نہایت سر گرم تھیں۔بس اتنی بات تھی ان کی طبیعت ذرا تیز تھی مگر تیزی کے بعد وہ جلد ہی خود نادم ہو جایا کرتی تھیں۔صدقہ اور خیرات میں تو ان کا یہ مرتبہ تھا کہ حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی ا ہم نے ہم سے فرمایا کہ آستر عُكُن لحافا ني اطولُكُن يَدا۔یعنی تم میں سے جو سب سے زیادہ لمبے ہاتھوں والی ہے وہ میری وفات کے بعد سب سے پہلے فوت ہو کر میرے پاس پہنچے گی۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ ہم نے اس سے ظاہری ہاتھ سمجھے اور اپنے ہاتھ نا پا کرتی تھیں لیکن جب آنحضرت صلی علیم کے بعد سب سے پہلے زینب بنت جحش کا انتقال ہوا تو تب جا کر ہم پر یہ راز کھلا کہ ہاتھ سے مراد صدقہ و خیرات کا ہاتھ تھا نہ کہ ظاہری ہاتھ۔