اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 358
اصحاب بدر جلد 4 358 آزادی کی درخواست کی۔آنحضور صلی علیم نے زید کو بلا کر ان کی رائے طلب کی تو حضرت زید نے اپنے والد اور چچا کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔848 اس واقعہ کی تفصیل حضرت مصلح موعودؓ نے اس طرح بیان فرمائی ہے کہ جب حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ صلی للی کم سے شادی کی تو آپ سمجھ گئیں کہ میں مالدار ہوں اور یہ غریب ہیں۔آپ صلی یہ نکم کو جب ضرورت ہو گی مجھ سے مانگنا پڑے گا اور یہ شاید آپ صلی للی کم بر داشت نہ کر سکیں تو پھر زندگی کیسے گزرے گی۔حضرت خدیجہ میں بڑی ذہانت تھی۔آپ بڑی ہوشیار اور سمجھدار خاتون تھیں۔آپ نے خیال کیا کہ اگر ساری دولت آپ کی نذر کر دوں تو پھر آپ صلی علیکم کو کو ئی احساس نہیں ہو گا کہ یہ چیز بیوی نے مجھے دی ہے، بلکہ آپ جس طرح چاہیں گے خرچ کر سکیں گے۔چنانچہ شادی کو ابھی چند دن ہی گزرے تھے کہ حضرت خدیجہ نے رسول کریم صلی علیم سے کہا کہ میں ایک تجویز پیش کرنا چاہتی ہوں۔اگر آپ اجازت دیں تو پیش کروں۔آپ مسلیم نے فرمایا کہ وہ کیا تجویز ہے ؟ حضرت خدیجہ نے کہا کہ میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اپنی ساری دولت اور اپنے سارے غلام آپ کی خدمت میں پیش کر دوں اور یہ سب آپ کا مال ہو جائے۔آپ قبول فرمالیں تو میری خوشی ہو گی اور خوش قسمتی ہو گی۔آپ نے جب یہ تجویز سنی تو آپ نے فرمایا خدیجہ !کیا تم نے سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے ؟ اگر تو تم سار امال مجھے دے دو گی تو مال میر اہو جائے گا اور پھر تمہارا نہیں رہے گا۔حضرت خدیجہ نے عرض کیا کہ میں نے سوچ کر ہی یہ بات کی ہے اور میں نے سمجھ لیا ہے کہ آرام سے زندگی گزارنے کا بہترین ذریعہ یہی ہے۔آپ صلی علیہم نے فرمایا کہ پھر سوچ لو۔حضرت خدیجہ نے عرض کیا ہاں ہاں میں نے خوب سوچ لیا ہے۔آپ صلی علی یکم نے فرمایا کہ اگر تم نے سوچ لیا ہے اور سارا مال اور سارے غلام مجھے دے دیے ہیں تو میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میرے جیسا کوئی دوسرا انسان میر اغلام کہلائے۔میں سب سے پہلے غلاموں کو آزاد کر دوں گا۔حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا کہ اب یہ آپ کا مال ہے، جس طرح آپ چاہیں کریں۔آپ یہ سن کر بے انتہا خوش ہوئے۔آپ باہر نکلے، خانہ کعبہ میں آئے اور آپ نے اعلان فرمایا کہ خدیجہ نے اپنا سارا مال اور اپنے سارے غلام مجھے دے دیے ہیں۔میں ان سب غلاموں کو آزاد کرتا ہوں۔حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ آج کل اگر کسی کو مال مل جائے تو وہ کہے گا کہ چلو موٹر خرید لیں، کو ٹھی بنالیں، یورپ کی سیر کر لیں اور یا پھر یہ بھی آج کل میں نے دیکھا ہے اور بعض معاملات آتے ہیں کہ اگر بیوی اپنے خاوند کو مال دے بھی دے تو یہ جو اپنی خواہشات ہیں ان کو پورا کرنے کے علاوہ بیوی کے حقوق ادا کرنے سے بھی انکاری ہو جاتے ہیں اور پھر کوشش یہ ہوتی ہے کہ مال تو ہمارے پاس آگیا، اب تم ہماری لونڈی باندی ہو اور بیویاں پھر مجبور ہوتی ہیں۔لیکن آنحضرت صلی یی کم کا جو مقام تھا، جو سوچ تھی وہ یہ تھی کہ دین کی خاطر مال خرچ ہو، اللہ تعالیٰ کی خاطر مال خرچ ہو اور انسانوں کو جو غلام بنایا جاتا ہے اس غلامی کا خاتمہ ہو۔بہر حال آپ کے اندر جو خواہش پیدا ہوئی تھی وہ یہ تھی کہ جو میری طرح خدا تعالیٰ کے بندے المدرسة۔